پشاور (مانند نیوز) الخدمت فاونڈیشن خیبر پختونخواکے صدر خالد وقاص نے ضلعی صدر ارباب عبدالحسیب صوباٸی ناٸب صدور حافظ حمید اللہ ،فدامحمد اور صوباٸی میڈیا منیجر نورالواحدجدون کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ھوٸے کہا ھے کہ اب تک حالیہ سیلاب سے متاثرہ ڈھاٸی لاکھ سے زاٸد متاثرین کو الخدمت نے 60کروڑ روپے سے زاٸد مالیت کا ریلیف پہنچایا ھے اورمتاثرین کی امداد کا سلسلہ تاحال جاری ھے انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کے اس بڑے سانحے کے موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار پہلے دن سے میدان عمل میں ہیں اور ابتداء میں سیلاب کے موقع پر ریسکیوکے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کو خوراک اور پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور سیلاب میں گھیرے لوگوں کو باحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ الخدمت فاؤندیشن کے رضاکاروں نے انسانوں کو کھانے پینے کے اشیاء کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ جانوروں کے لئے بھی چارے کا انتظام کیا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع لوئر واپرچترال،لوئر واپر دیر،سوات،چارسدہ،نوشہرہ،ٹانک،ڈیرہ اسماعیل خان،کوہستان کے تینوں اضلاع اپر ولوئر کوہستان وکولائی پالس جبکہ ملاکنڈ کی یونین کونسل طوطہ کان اور پشاورکے علاقے متھرا،ورسک روڈ،چارسدہ روڈ پر دریاکے کنارے آباد دیہات بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ بھر میں سیلاب سے کل 12اضلاع مکمل طور پر جبکہ تین چار اضلاع جزوی طور پر متاثر ہوچکے ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن کے سات ہزار سے زائد تجربہ کار رضاکاروں نے ایمرجنسی ریسکیوکے دوران سیلاب میں گھیرے6ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔اب تک رپورٹس کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن نے ٹینٹ سٹی اور فیلڈ ہسپتال کا قیام عمل میں لائیں ہیں۔21ہزار سے زائدمتاثرہ گھرانوں میں ایک ماہ کے خشک راشن پرمبنی فوڈ پیکجزتقسیم کئے گئے ہیں۔متاثرین کو اب تک 1050سے زائد دیگیں پکاپکایا کھانا فراہم کیا گیا ہے۔555خیمے،860ترپالیں،350مچھر دانیاں،کمبل بستروں،سرہانے اور رضائیوں پر مشتمل 861ونٹر پیکجزاور 1783کیچن سیٹ ودیگر ضروری اشیاء بھی متاثرین کو مہیا کئے گئے ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن نے خالدوقاص نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کے سلسلے میں 73فری میڈیکل کیمپس بھی لگائے ہیں جہاں پر تجربہ کارڈاکٹروں اور طبی عملہ پر مشتمل ٹیم نے 21900سے زائد مریضوں کو مفت طبی ریلیف اور ادویات بھی فراہم کئے ہیں۔واٹر ٹینکرز اورپینے کے صاف پانی کے 65منصوبوں کے زریعے متاثرین کو آبنوشی کی سہولیات فرا ہم کی گئی ہیں جبکہ صاف پانی کے144منصوبوں کو دوبارہ کارآمد بنایا گیا ہے جس سے8520سے زائد افراد مستفید ہورہے ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن نے خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرین کو اب تک تقریبا 25کروڑ روپے مالیت اور تقریباً35کروڑ روپے کا in kind کی مد میں متاثرین کوریلیف فراہم کیا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا قدرتی سانحہ ہے جس سے ہونے والے نقصانات کا حجم 2010ء کے تباہ کن سیلاب سے بہت زیادہ ہے۔سیلابی ریلے تو متاثرہ علاقوں سے گزر گئے لیکن بعض مقامات پراپنے پیچھے تباہی اور بربادی کے ان مٹ نقوش چھوڑگئےہیں۔سوات،دیربالا،چترال،کوہستان،چارسدہ،نوشہرہ،ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب سے ہزاروں گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور اب بھی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑی آبادیاں سیلابی پانی میں گھیرے ہوئے ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن نے ریسکیو اور ایمرجنسی ریلیف کے بعد اب متاثرہ علاقوں میں قلیل المعیاد اور طویل المعیادمنصوبوں پرمشتمل بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے کا آغاز کردیا ہے اور اس مرحلے کے پہلے فیز میں متاثرہ علاقوں میں کنوؤں اور آبنوشی کے منصوبوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے علاوہ فوری طور پر مساجد کی بحالی کاکام شامل ہے جبکہ تعمیر نو کے اس مرحلے میں سیلاب سے مکمل تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیر کے لئے بھی الخدمت فاؤنڈیشن بھر پور جدوجہد کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران پہلے دن سے ملک اور بیرون ملک مخیر افراد اور درددل رکھنے والے ہر مکتبہ فکر سے وابستہ معاونین نے الخدمت فاؤنڈیشن پر اپنے بھر پور کا اعتماد کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن کی بھر پور معاونت کی ہے اور سیلاب متاثرین کے بحالی اور تعمیر نو کے اس اہم اور مشکل مرحلہ میں بھی الخدمت فاؤنڈیشن معاشرے کے اہل خیر اور صاحب ثروت افراد سے تعاون کی اپیل کرتی ہے تاکہ مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیزاسٹر سے متاثرہ افراد کی مکمل بحالی کی راہ ہوسکے اور خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھ سکیں۔