چترال (مانند نیوز) سیلاب کے متاثرین کے ساتھ فلاحی اور رفاحی اداروں کے ساتھ ساتھ بعض لوگ ذاتی حیثیت میں بھی مدد کررہے ہیں۔ ہری پور  سے تعلق رکھنے والے ایک دینی مدرسے کے معلم مولانا محمد فاروق نے بھی چترال کے متاثرین کے ساتھ مدد کیا۔ انہوں نے 90 گھرانوں کیلئے پیکیج لایا تھا جس میں 45 پیکیج وادی گولین کے متاثرین میں تقسیم کی گئی اور بقیہ 45 پیکیج دیگر متاثرہ لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ ان امدادی سامان میں آشیائے خوردنوش، گرم کمبل، بسترے، اور باورچی حانہ میں استعمال ہونے والا سامان شامل ہیں۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چترال کے معروف سماجی کارکن مولانا فتح الرحمان نے ان کو ان متاثرین کی تصاویر اور ویڈیو کلپ بھیجوائے تھے جنہیں دیکھ کر ان کو بہت دکھ ہوا اور  فوری طور پر اپنے مدرسہ میں اعلان کرکے مدرسہ کے طلباء ان کے والدین اور میرے مہتدیوں پر مشتمل لوگوں نے اپنے بساط کے مطابق سامان اکٹھاکیا۔ جس میں گرم کپڑے اور جوتے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر علاقوں میں  اگرچہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے مگر وہ لوگ پانی کم ہونے کے بعد اب چند ماہ میں اپنے اپنے گھروں کو  واپس لوٹیں گے مگر چترال کا معاملہ کچھ اور ہے۔چترال میں اگلے مہینے برف باری شروع ہوگی اور یہاں سخت سردی پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے فی الحال ان لوگوں کیلئے گرم کپڑے، بسترے، کمبل اور کچن میں استعمال ہونے والا سامان اکھٹا کرکے لایا تاکہ ان کا چولہا جلتا رہے اور سردی سے بھی بچ سکے۔تاہم اس مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ ان لوگوں کو سر چھپانے کی جگہہ مہیا کی جائے تاکہ برف باری اور بارش کے دوران یہ لوگ اس حیمے میں زندگی گزار نے پر مجبور نہ ہو۔ اس سلسلے میں مولوی فتح الرحمان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ان متاثرین کیلئے فوری طور پر ان کے تباہ شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کا بندوبست کیا جائے اور اکثر جگہہ گھروں کے اوپر سے پانی گزررہاہے تو ایسے جگہوں میں دوبارہ گھر تعمیر کرنا ممکن نہیں ہے ایسے لوگوں کیلئے کسی اور محفوظ جگہہ میں قیام کا بندوبست کیا جائے۔ مقامی لوگوں نے انکشاف کیا کہ اس وادی میں محتلف اداروں کی جانب سے حفاظتی دیوار اور بند بنانے پر ستر کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں مگر کام ناقص ہے اور اکثر حفاظتی دیواروں کا تو سرے سے بنیاد ہی نہیں ہے بس زمین کے اوپر سے پتھر رکھ کر دیوار بنایا گیا ہے جس میں پتھر باہر نکل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ایک بار کاغذوں میں یہاں پچاس ساٹھ کروڑ روپے خرچ کررہے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ ان متاثرین میں فی گھرانہ ایک ایک کروڑ روپے تقسیم کیا جائے تاکہ یہ لوگ کسی اور جگہہ اپنے لئے گھر آباد کرسکے اور ویسے بھی یہ جگہہ اب محفوظ نہیں رہا یہاں بار بار سیلاب آنے کا حطرہ ہے۔متاثرہ لوگوں نے مولوی محمد فاروق اور ان کے ٹیم کا شکریہ ادا کیا کہ مصیبت کے اس گھڑی میں ان کو تنہاں نہیں چھوڑ ااور اپنے بساط کے مطابق ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ان میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے