ایبٹ آباد (مانند نیوز ڈیسک) ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں جینیاتی امراض کی تشخیص اور علاج سے متعلق آگاہی سیمینار کا انعقاد۔سیمینار کے مہمان خصوصی ینگ سائنٹسٹ ڈاکٹر عمیر مسعود اور ڈین ایوب میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق تھےسیمینار کا مقصد موروثی بیماریوں کے شکار افراد کے مرض کا جلد علاج اور سستے طریقے سے بیماری کا پتا چلانا ہے۔اس سیمینار کا انعقاد چیئرپرسن گائنی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر سعدیہ حبیب،ڈاکٹر انصہ اسلام اور ڈاکٹر ارم سرور کی سربراہی میں کروایا گیا۔سیمینارمیں میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عالم زیب سواتی ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر اشفاق احمد ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ،گائنی ڈیپارٹمنٹ کے سینئر اور جونیئر ڈاکٹرز اور دیگر عملہ بھی موجود تھا۔پاکستان کا نوجوان سائنسدان عمیر مسعود نے جینیاتی امراض کی تشخیص او علاج کے حوالے سیمینار کے شرکاء کوتفصیلی بریفنگ دی اپنی زندگی کے بارے میں بھی شرکاء کو آگاہ کیا اسی حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں بائیو ٹیکنالوجی میں داخلہ کے بعد چوتھے سمیسٹر میں ہی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔عمیر مسعود کا کہنا تھا کہ آ سڑیلیاں میں منعقد کانفرنس میں 121 مملک کے طالب علم، پروفیسر، پی ایچ ڈی اور سائنسدانوں نے شرکت کی لیکن وہ واحد پاکستانی تھے جس کی کانفرنس میں شرکت کی فیس بھی نہیں تھی۔ 21 سالہ نوجوان سائنسدان عمیر مسعود کاکہنا تھا کہ میں اس علاقے کے تمام تر مریض جو کہ ان موروثی بیماریوں کے شکار ہیں انکی میں فری آف کاسٹ رہنمائی کرتا ہوں اور تشخیصی ٹیسٹ بھی مفت یا بہت ہی مناسب قیمت میں کرتا ہوں جس سے غریب عوام کی بہت سی مشکلات میں کمی آتی ہے۔ان جینیاتی امراض میں آٹزم،تھلیسیمیا ڈاون سندروم سی پی چائلڈ وغیرہ شامل ہیں۔ان مریضوں کے ٹیسٹ اور علاج کی سہولت اس علاقے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ اور نہ ہی کوئی جنیٹک سپیشلسٹ تک رسائی حاصل تھی۔ عمیر مسعود نے بلا معاوضہ ایسے مریضوں کی تشخیص اور علاج کے مشورے کیلیئے اپنی خدمات بھی پیش کیں جسکو سب نے بہت سراہا۔ تقریب کے آخر میں ڈین ایوب میڈیکل کالج و سی ای ایوب ٹیچنگ ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عمرفاروق،میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عالم زیب سواتی،ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر اشفاق احمد اور چیرپرسن گائنی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر سعدیہ حبیب نے نوجوان سائنسدان عمیر مسعود کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ بہت جلد ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں جینیاتی امراض کی کونسلنگ شروع کر دی جائے گی۔تاکہ نا صرف ہزارہ بلکہ گلگت آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں سے آنے والے مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں اور ان بچوں کی بیماریوں کا بروقت علاج مکمن ہو سکے