چترال (مانند نیوز) ضلع اپر چترال کے تیس بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولوں کے استانیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک پر امن مظاہرہ اور واک کیا۔ان استانیوں کا کہنا ہے  کہ وہ 1996  سے وفاقی حکومت کے تحت ان سکولوں میں نہایت کم تنخواہ پر پانچویں جماعت تک بچوں کو سبق پڑھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جون 2021 کو یہ پراجیکٹ صوبائی حکومت کے حوالہ ہوا  اور صوبائی حکومت نے اسے مزید ایک اور پراجیکٹ  ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے حوالہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پحتون خواہ میں ایسے 1200 سکول ہیں جن میں صرف ایک استانی پانچویں  جماعت تک بچوں اور بچیوں کو پڑھاتی ہے۔چترال کے دونوں اضلاع میں ایسے سکولوں کی تعداد  تقریباً 96 ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے گزشتہ Verification میں بہت سارے سکولوں کو بند دکھایا ہے  حالانکہ وہ سکول اب بھی کھلے ہیں اور اس میں بچے بھی پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ EEF والے ان سے ایک معاہدہ پر دستخط لینا چاہتے ہیں جس میں یہ لکھا گیا ہے کہ ہم اپنے حق کیلئے نہ تو آواز اٹھاسکتی ہیں اور نہ عدالت سے رجوع کرسکتی ہیں یہ سراسر بے انصافی ہے اور ہماری 23 سال سروس بھی اس میں مدغم یعنی شمار نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ اس ظالمانہ معاہدہ پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے ہماری تنخواہیں پچھلے 16مہینوں سے بند ہیں ان سکولوں کے نھنے منے نونہال بچوں کے زبان پر بھی ایک ہی نعرہ تھا  کہ ہمارے ہاتھوں سے قلم کتاب نہ چھینا جائے۔ ان استانیوں نے ڈی سی آفس تک واک بھی کیا اور ڈپٹی کمشنر سے کامیاب مذاکرات کرنے کے بعد اپنا احتجاج حتم کیا۔ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر منظور احمد آفریدی نے  ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ تعلیم سے بات کرنے کے بعد ان کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا مسئلہ دو ہفتوں میں حل ہوگاڈپٹی کمشنرکے ساتھ مذاکرات اور ان کی یقین دہانی پر ان استانیوں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ان استانیوں کا صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان کو پچھلے سولہ مہینوں کی تنخواہ دی جائے اور ان کی ملازمت کو مستقل کرتے ہوئے ان سکولوں کو بند ہونے سے بچایا جائے جس کی بندش سے سینکڑوں نونہال  اپنے بنیادی حق یعنی تعلیم سے محروم  ہوجائیں گے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے