جندول ( مانند نیوز) تفصیلات کیمطابق سابق سٹیٹ ملازمین نے تحصیل میونسپل انتظامیہ ثمرباغ کے دفتر میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جسمیں سابق سٹیٹ ملامین اور اقوام جندول کیساتھ ساتھ کئ تنظیموں کے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی احتجاج سے سابق سٹیٹ ملازمین دیر لوئر کے صدر عبدالستار ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سر بلند خان ، اقوام جندول کے سربراہان نے خطاب کی ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور قبضہ مافیا نے سابق سٹیٹ ملازمین کی جائیدادوں کو ہڑپنے کیلئے منصوبہ بندی کی ہے جندول کی زمینیں یہاں کی سینکڑوں سال سے آباد اقوام کی ہیں اس میں خان جندول کا رتی بھر حق نہیں سابق سٹیٹ ملازمین جان قربان کر دینگے مگر زمینوں کو کسی کے حوالے نہیں کرینگے۔انہوں نےکہا کہ سابق سٹیٹ ملازمین کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کا رویہ درست نہیں اور نہ ہی وہ یہاں کے رواج کیساتھ آشناء ہے اور ڈپٹی کمشنر پنجاب سے اسی پلین کیلئے بلایا گیا ہے
انہوں نے کہا کہ 1974 میں وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو شہید کے کہنے پرجندول کی زمینیں سٹیٹ ملازمین کو فینشن کے طور پر دئے گئے تھے جسکی اب بھی کاغذات موجود ہے لیکن ڈپٹی کمشنر اس وقت کے وزیر اعظم کے فیصلے کو ماننے سے انکاری ہے اور جندول کی ہزاروں کنال زرعی زمینیں جندول خان کے اولاد اور قبضہ مافیا کو دینے کے لئے لاکھوں خاندانوں پر دباو ڈال رہاہے اگر جندول میں انتظامیہ کا یہ رویہ جاری رہا تو علاقہ میں خونریزی ہو سکتی ہے۔ تقریب کے آخر میں ہزاروں شرکاء نے جندول بچاو واک بھی کیا