پبی (مانند نیوز)جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا حامد الحق حقانی نے کہاہے کہ پاکستان کو سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی اور حصول اقتدار کی جنگ میں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ تمام سیاستدانوں حکمرانوں اور اداروں کو چاہیے کہ وہ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر پاکستان کی سلامتی،استحکام اور دفاع کے لئے منصوبہ بندی کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں شہید اسلام مولانا سمیع الحق شہید کی یاد میں منعقدہ ایک پروقار اور عظیم الشان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے شہید ناموس رسالت? مولانا سمیع الحق شہید کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی ملی،سیاسی، دینی،علمی،تصنیفی خدمات کو سراہا اوراس عزم کا اظہار کیا کہ مولانا سمیع الحق کے دینی و سیاسی وڑن کے مطابق اسلام کی سربلندی،شریعت کے نفاذ،استحکام و دفاع پاکستان دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت اور استحصالی سامراجی قوتوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مولانا حامد الحق نے کہاکہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اورنظریہ پاکستان کی حفاظت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے امن اور سالمیت کی خاطر ہم قربانیاں دے رہے ہیں،ہم علمائے حق کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ اسلام، علماء اور مدارس کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے اسی وجہ سے سامراجی قوتیں ان کو برداشت نہیں کرسکیں، مولانا سمیع الحق نے اپنا سینہ چھلنی کروا دیا لیکن سامراج کے سامنے جھکے نہیں۔اجتماع سے دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اوروفاق المدارس کے نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی،مولانا یوسف شاہ، مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالقدوس نقشبندی، مولانا ایوب خان ثاقب، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا ضیاء محمود،سردار انجینئر نسیم،مولانا عبدالحئی، قاری اخلاق مدنی، مولانا شیر محمدمغل، مولانا حاجی شیر محمدوزیرستانی، مولانا محمد سعید ہاشمی،مولانا محمد طیب قریشی،مولانا قاضی فتح الباری رستمی،مولانا راشدا لحق، مولانا عرفان الحق اور جمعیت علمائے اسلا م کے چاروں صوبوں کے امراء نے شرکت اور خطاب کیا۔مقررین نے کیا کہ جمعیت علماء اسلام مولانا حامد الحق حقانی کی قیادت میں متحد اور متحرک ہے اوراس ملک میں موجودہ ظالمانہ،غیرمنصفانہ اور غیر شرعی نظام کو شکست دے کر اسلامی نظام کا پرچم لہرانے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام محب وطن سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور استحکام پاکستان اور نفاذ شریعت کے سلسلہ میں جمعیت ہر اول دستے اور جراتمندانہ قیادت کا کردار ادا کرے گی۔ مولانا حامد الحق حقانی نے کہا اگر عالمی دنیا نے افغانستان کو اس بار بھی تنہا چھوڑ دیا تواس کے اثرات پاکستان اورخطہ بھر میں بہت نقصان دہ ہوں گے۔مقررین نے ملک میں جاری مہنگائی اور بیروزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ غریب عوام کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں کیونکہ عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا سید یوسف شاہ نے کہاکہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشمکش اور رسہ کشی افسوس ناک ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی قائدین کے ساتھ تصادم کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرے اور عوامی مسائل پر توجہ دے۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے پرزور مطالبہ کیا کہ مولانا سمیع الحق شہید جیسے عظیم محب وطن اور عالمی رہنما کو چار سال قبل راولپنڈی میں انتہائی مظلومانہ اندادز میں شہید کردیا گیا تھا،چار سال گزرنے کے باوجود آج تک حضرت مولانا شہید اور دیگر مظلوموں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکا جو کہ قابل صد افسوس و باعث تشویش ہے۔ اسلامی اورپاکستان دشمن قوتوں نے حضرت مولانا کو شہید کرکے دراصل پاکستان کے دونظریے پر وار کیا ہے مولانا سمیع الحق شہید نہ صرف پاکستان کے نظریاتی بلکہ جغرافیائی سرحدوں کے بھی ایک عظیم جرنیل اور سپوت تھے