پشاور(مانند نیوز ڈیسک) غیر سرکاری تنظیم جہاد فار زیرو تھیلی سیمیا پاکستان کی ٹیم نے ڈائریکٹر گلوبل افیئرز آصف خان کی سربراہی میں کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پشاور ڈویژن پشاور، چارسدہ، نوشہرہ،قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر سے تھیلی سیمیا کے خاتمے کیلئے اقدامات اور قانون سازی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے تھیلی سیمیا سے آگاہی کیلئے اقدامات پر جے زیڈ ٹی کے اقدامات کو سراہا اور اس نیک کام کیلئے ہر قسم کے تعاون اور رہنمائی کے لیے خود کو پیش کیا۔ ملاقات کے دوران بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ آگاہی نہ ہونے اور مائنر تھیلی سیمیا کے شکار افراد کی آپس میں شادیوں کے باعث تھیلی سیمیا کے شکار میجر تھیلی سیمیا کے بچوں کی تعداد سالانہ پانچ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔میجر تھیلی سیمیا چونکہ ایک لاعلاج مرض ہے اور اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔علاج کے باوجود میجر تھیلی سیمیا کا شکار بچے بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہی وفات پاجاتے ہیں جبکہ آگاہی نہ ہونے اور حکومتی سطح پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہونے کے خدشے کااظہار کیاگیا۔ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں اگلے ہفتے ملاقات اور آگاہی کیلئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان سے وقت مانگ لیا  جبکہ پشاور ڈویژن کے تمام اضلاع میں تھیلی سیمیاٹیسٹ کے بغیر ڈومیسائل کے اجرا پر پابندی کے فوری عملدرآمد کیلئے بروز جمعرات 8 دسمبر اہم اجلاس طلب کرلیا۔ اجلاس میں تھیلی سیمیا ٹیسٹ کے بغیر ڈومیسائل کے اجرا پر پابندی پر فوری عملدرآمد سمیت عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے حکمت عملی طے کی جائے گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تھیلی سیمیا ٹیسٹ کے بغیر دیگر خدمات انتقال،اسلحہ لائسنس،فرد نمبر اور دفاتر میں درخواستوں کی عدم وصولی پر بھی تجویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسرز سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے انتظامی افسران کو بھی طلب کرلیا گیا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے