شیرگڑھ (مانند نیوز)پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نہ صرف پختونوں کے سیاسی اور معاشی حقوق کے حصول اور اس کے تحفظ یقینی بنانے کے جدوجہد جاری رکھے گی بلکہ ان کے سماجی مسائل حل کرنے کیلئے بھی اب طریقہ کار وضح کرینگی ۔ اس بات کا اظہار مشر محمود خان خان اچکزئی نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے دو روزہ ساتویں قومی کانگریس کے پہلے سیشن کو افتتاحی خطاب میں کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک طرف پختون عالمی، علاقائی اور ملکی طاقتوں کے استعماری پالیسوں کے شکار ہیں جس کے وجہ سے پختونوں کے عزت نفس، جان و مال اور سیاسی و معاشی مفادات غیر محفوظ ہے تو دوسری طرف چھوٹی چھوٹی بے بنیاد تنازعات کے وجہ سے نجی اور قبائلی دشمنیوں میں الجھے ہوے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دو ہزار پختون اس قسم کے دشمنیوں کے بھینٹ چڑھتے ہیں۔ پختونخوا میپ اس کے حل اور روک تھام کیلئے دو ہزار مشران پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دینگی جس میں ہر پختون قبیلے اور علاقے سے نمایندگی ہوگی۔ اس کے علاؤہ اچکزئی نے پختونوں پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی و معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنے بچوں کے تعلیم اور سماجی تربیت پر توجہ دے۔ محمود خان اچکزئی نے مزید کہاں کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی عوامی جماعت ہے جس میں زندگی کی ہر شعبہ، فرقہ اور طبقے سے تعلق رکھنے والا افراد کیلئے گنجائش ہے۔ ” اس جماعت کے دروازے عالم دین ، تبلیغی ، پیر ، ملا وغیرہ سب کا مشترکہ گھر ہے لہذا پیشے ، حسب نسب ، انفرادی مذہبی اور سماجی روحجان کے بنیاد پر تعصب نہیں ہوگا” محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پختون ایک مہذب قوم ہے ، انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ریاستیں اور بادشاہتیں بنائے اور چلائے۔ دنیا آج بھی شیرشاہ سوری کے بنائے ہوئے نظام کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں آج بھی پختونوں کے وطن میں مسافروں کیلئے رہائش اور خوراک مفت ہے لیکن پھر بھی دنیا کے بعض طاقتوں نے اپنے غیر انسانی سیاسی معاشی ایجنڈے کے تکمیل اور اس کے حصول کیلئے دہشتگردی کی لبادہ میں مسلط کردہ جنگوں کو چھپانے کیلئے پختونوں پر دہشتگردی کا لیبل چسپاں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے بہت پہلے کہاں تھا کہ افغان سرزمین ایشیا کا دل ہے اور اگر یہ دل مضطرب ہوا تو پورے ایشیا میں بے قراری پھیلے گے لیکن کسی نے ان کے بھی نہیں سنا اور آج افغانستان اور پختون وطن میں مسلط کردہ اضطراب ایشیا کو بے چین کر رہاہے۔ اج دنیا میں پچاس سے ذیادہ مسلم ریاستیں ہیں لیکن تاریخ میں افریقہ سے لیکر عرب دنیا تک صرف ترکی اور افغانستان نے اپنی آزادی کو برقرار رکھی۔ ہم تو ایسے عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مسلط کردہ فساد اور اضطراب کے عادی ہوئے ہیں لیکن باقی قومیں اور علاقائی ریاستیں اس پھیلتے ہوے اضطراب کے نتائج کے بارے میں سوچھے۔ ساتویں قومی کانگرس کے افتتاح سے پہلے محمود خان اچکزئی حسب رویات تمام مندوبین سے فرداً فرداً ملے۔ ان کے افتتاحی خطاب کے بعد سیشن کو مندوبین کیلے کھول دیا تاکہ ہر ایک مندوب اپنے رائے کا اظہار اور تجاویز دیں سکے۔