شیر گڑھ(مانند نیوز ) پاکستان تحریک انصاف تحصیل درگئی کے سینئر کارکنوں کے خلاف درج ہونے والے ایف آئی آر کے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کااعلان کردیا۔ سرکاری آٹا کے حصول کے لئے تحصیل درگئی کے خواتین کے احتجاج میں پی ٹی آئی کارکنوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی تھی جس کے خلاف محکمہ فوڈ ملاکنڈ نے پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔درج ایف آئی آر کے فوری خاتمے اور احتجاج کا اعلان پاکستان تحریک انصاف تحصیل درگئی کے سینئر کارکنوں جن میں تحصیل صدر تحسین اللہ، جنرل سیکرٹری حاجی افتخار خان، نائب صدر پیر سکندر زمان، سابق ضلعی صدر و سابق اُمیدوار صوبائی اسمبلی ڈاکٹر فضل محمد، انصاف ویلفیئر ونگ کے ضلعی صدر عرفان اللہ خان، صوبیدار (ر) احمد رشید، اسحاق خان،خالد منصور کاکا خیل اور وصی اللہ نے دیگر قائدین و کارکنوں کے ہمراہ حجرہ حاجی محمد عثمان خان بمقام گل ڈھیرئی ہیروشاہ پر ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تحصیل عہدیداروں نے کہا کہ گذشتہ روز درگئی میں باپردہ اور باعزت گھرانوں کے خواتین نے سرکاری آٹے کے عدم دستیابی اور من پسند افراد میں سیاسی بنیادوں پرآٹا تقسیم کے خلاف احتجاج کیا تھا جس میں تحصیل درگئی کے تمام سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی کے سینئر کارکنوں نے بھی شرکت کرکے مظاہرین سے خطاب کیا تھا جس پر محکمہ فوڈ درگئی ملاکنڈ کے اہلکاروں نے سازش کے تحت پی ٹی آئی کے سینئر کارکنوں جن میں سابق اُمیدوار صوبائی اسمبلی اور سابق ضلعی صدر ڈاکٹر فضل محمد بھی شامل ہے کے خلاف فوڈ دفتر پر حملے کی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ تحصیل جنرل سیکرٹری حاجی افتخار خان اور ڈاکٹر فضل محمد نے کہا کہ منظم سازش کے تحت اتنے بڑے احتجاج میں صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ٹارگٹ بنانے کی وجہ ہمیں معلوم ہے کہ کس کے ایماء ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ تحصیل عہدیداروں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ، اسسٹنٹ کمشنر درگئی،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر درگئی سمیت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پی ٹی آئی کارکنوں پر درج ایف آئی آر کی تحقیقات کرائیں اور جس کے ایماء پر ایسا حرکت کیا گیا ہے انہیں نشان عبرت بنایا جائے۔ تحصیل قائدین نے کہا کہ اگر ایف آئی آر خاتمے سمیت ہمارے دیگر مطالبات فوری طور پر تسلیم نہیں کئے گئے تو بھر پور احتجاج کا راستہ آپنائینگے اور جس نے ایف آئی آر درج کرانے میں سازش کی ہے انہیں عوام اور کارکنوں کے سامنے بے نقاب کرینگے۔