اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک)پاکستان میں تھیٹر کے شعبے میں صورتحال مجموعی طور پر کبھی بھی تسلی بخش نہیں رہی، البتہ ایسے کم ہی ادوار گزرے ہیں کہ جب تھیٹر کے منچ کی رونقیں بحال ہوئیں لیکن یہ مختصر مدت تک ہی ہوسکا۔قیامِ پاکستان کے بعد تھیٹر کے شعبے کو انفرادی حیثیت سے فروغ ملا، اور پھر کچھ تھیٹر گروپس بھی منظرِعام پر آئے۔ حکومتی سرپرستی میں ’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس‘ (ناپا) جیسا ادارہ بھی وجود میں آیا لیکن تھیٹر کا اپنا وجود پنپ نہ سکا اور پاکستان میں تھیٹر کی مجموعی صورتحال مخدوش ہی رہی۔ماضی قریب میں انگریزی تھیٹر نے میلہ لوٹا مگر وہ موسم بھی جلد رخصت ہوا۔ پھرمعروف ڈرامانگار انور مقصود کے کچھ ناٹکوں کو بھی توجہ اور مقبولیت ملی لیکن ان کے لکھے ہوئے آخری ڈرامے ’ساڑھے چودہ اگست‘ کو دیکھتے وقت محسوس ہوا کہ ان کی تھیٹر والی مقبولیت کا بھی اب چل چلاؤ ہے۔