پشاور (مانند نیوز) محکمہ صحت خیبر پختون خواہ کے خصوصی سیل برائے نیوٹریشن اور یونیسف کے تعاون سے صوبے کے تمام اضلاع میں بچوں کو دودھ پلانے کا مہینہ منانے کا انعقاد سرینا ہوٹل پشاور میں کیا گیا۔عالمی سطح پر بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی افادیت سے متعلق اگاہی کا عالمی ہفتہ ہر سال یکم آگست سے سات آگست تک منایا جاتاہے۔ لیکن صوبہ خیبر پختون خواہ میں پورا مہینہ اس اگاہی کیلئے وقف کیا گیاہے۔ اس پروقار تقریب میں معاون خصوصی برائے ڈائیریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختون خوا ہ نے بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ ماں کا دودھ ہر لحاظ سے بچے کیلئے ایک مکمل غذا ہے اور بچے کے پیدائش کے بعد جلد از جلد بچے کو ما ں کا دودھ پلانا شروع کرنا چاہئے۔ انہونے مذید کہا کہ محکمہ صحت اور نیوٹریشن سیل کو اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا چاہئے تا کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے تناسب بڑھ جائے۔ڈائیریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختون خوا ہ ڈاکٹر شوکت علی نے اپنے خطاب میں اس حوالے سے نیوٹریشن سیل کو مکمل سپورٹ اور تعاون کی یقین دھانی کی اور یونیسف سے درخواست کی صوبے میں جاری نیوٹریشن پروگرام کو مذید وسعت دیں۔ تا کہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ اس سے مستفید ہوسکیں۔ڈائیریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختون خوا ہنے مذید کہا کہ اگر صوبے میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کا رجحان بڑھ گیا تو اس سے ہر سال 20,000 مائیں بے وقت موت سے بچ سکتی ہے۔تقریب میں شرکاء کو بتایا گیا کہ فی الحال صرف 45.6% بچوں کو پیدائش کے ایک گھنٹہ کے اندر اندر مائیں دودھ پلانا شروع کر دیتی ہیں۔ جو کہ ایک تشویشناک بات ہے۔ تقریب میں محکمہ صحت، سول سوسائٹی، این،جی،اوز، صحافیوں اور دیگر شعبہ ذندگی سے تعلق رکھنے والے کثیر لوگو ں نے شرکت کی۔