شانگلہ(مانند نیوز) بلوچستان کے بولان اور کوہاٹ میں دو مختلف کوئلہ کان حادثات، شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک کان کن مزدور جان بحق جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ بولان میں جان بحق ہونے والے نور حسن کی میت شانگلہ روانہ کر دی گئی ہے جبکہ کوہاٹ میں زخمی ہونے والے شفیع اللہ اور سردار خان کو علاج معالجے کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ملک کے مختلف کوئلہ کان میں کام کرنے والے شانگلہ کے 65 فیصد مزدوروں کی اموات اور زخمی ہونا اب معمول بن چکا ہیں۔ زخمی ہونے والے اکثر کان کن معذور ہو جاتے ہیں اور وہ پھر اپنے بچوں کو ان کوئلہ کان میں بھیج دیتے ہیں جس سے وہ خود متاثر ہوتا ہو چکا ہوتا ہے جو ایک بڑا المیہ ہیں۔ شانگلہ میں ان مزدوروں کے لیے کوئی دوسرا کاروبار کا بندوبست موجود نہیں نہ ان مزدوروں رجسٹریشن ہے اور نہ اس کے لیے کوئی علاج معالجہ یا اس بچوں کے لیے تعلیم کے لیے کوئی بندوبست جو شانگلہ کے منتخب نمائندوں کے لیے باعث شرم ہیں۔۔