اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)آئی ایم ایف کی شرط پر حکومت کا موجودہ مالی سال بجلی صارفین سے721 ارب روپے اضافی وصول کرنے کا منصوبہ ہے، بجلی ٹیرف میں اضافے اور گردشی قرضے میں کمی کا پلان آئی ایم ایف سے شیئر کردیا گیا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ستمبر تک بجلی ایک روپیہ 25 پیسے فی یونٹ مہنگی کی جائے گی، بجلی ٹیرف میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اس اضافے سے 39 ارب ریونیو ملنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ستمبر سے دسمبر تک فیول ایڈجسٹمنٹ مد میں بجلی مزید 4 روپے 37 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے، دسمبر تک فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے سے 122 ارب روپے ملیں گے، سالانہ ریبیسنگ مد میں 5 روپے 75 پیسے بجلی مہنگی کرنے سے 560 ارب موصول ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق موصولہ رقم توانائی شعبے کے گردشی قرضے میں کمی لانے کیلئے استعمال ہوگی، رواں مالی سال کے اختتام تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 130 ارب تک محدود کیا جائے گا، جون 2023 تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 700 ارب روپے کے لگ بھگ ہوچکا تھا۔