بٹ خیلہ(مانند نیوز)ملاکنڈ میں عالمی ہفتہ ماں و دودھ کی افادیت کے حوالے سے سیمینار و آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں محکمہ صحت اور یونیسیف کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضلع ملاکنڈ کے دفتر میں سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈسٹرکٹ نیووٹریشںن منیجر احمد علی خان، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر صادق شاہ، ڈاکٹر صغیرالمانی،ڈاکٹر عرفان الدین ایم۔ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر بٹ خیلہ،مقامی ایل ایچ ڈبلیو، ایل ایچ ایس، ایل ایچ ویز سمیت دیگر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ سیمینار کے بعد آگاہی واک بھی کیا گیا جس میں شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ماں کے دودھ کے فوائد بچے و ماں کے صحت کے حوالے سے نعرے درج تھے۔سیمینار سے اپنے خطاب میں ڈسٹرکٹ نیوٹریشن منیجر احمد علی خان نے کہا کہ کوئی دودھ ماں کے دودھ کا متبادل نہیں ہے جبکہ والدین بچوں کو بوتل کے دودھ سے بچائیں۔ماؤں کو خصوصی انٹینٹل کیئر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کو تعلیم دی جا سکے کہ دو حملوں کے درمیان کم از کم 2 سال کا وقفہ ہونا چاہیے۔ ماں کا دودھ بیماریوں کے خلاف ضروری حفاظت فراہم کرتا ہے۔ ماں کا پہلا دودھ کولوسٹرم بچے کا پہلا ویکسین ہے جو بچے کے لیے بیماریوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچے کو گھٹی یا چائے بالکل بھی نہ دیں۔ چھ مہینے کے بعد بچے کو نرم غذائیں جیسے کہ کھیر، فرنی، چاول اور رس خوراک دیں اور 2 سال تک دودھ پلاتے رہیں۔بچے کو 8 سے 12 دودھ ماں اپنا دودھ پلائے ماں کے دودھ کی مقدار پچے کی ضرورت کے مطابق قدرتی طور پے بڑھتی ہے جو کے ماں کے دودھ پلانے کے دورانیئے پے انحصار کرتی ہے اس دوران ماں کو اچھے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشاورت ماؤں کو مناسب بچوں کی دیکھ بھال کے طریقوں کے بارے میں تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماں کا دودھ نہ صرف بچےکو کو توانائی دیتی ہے مضر بیماریوں سے روک تھام کرتی ہے دست اور سینے کی انفیکشن بلکہ ماں کو بھی ماں کو بھی دودھ پلانے سے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں کیسے مدد ملتی ہےجو کہ بچے کا حق اور دین اسلام کی بھی یہی تعلیمات ہے۔ ڈسٹرکٹ نیوٹریشن منیجر احمد علی خان نے کہا کہ بچے کیلئے ماں کے دودھ کی اتنی افادیت ہے کہ ہمارے مذہب نے بچے کو دو سال تک ماں کی دودھ پلانے کا حکم دیا ہے جو مائیں اپنے بچوں کو اپنی دودھ پلاتی ہیں وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کیلئے اپنی ماں کی دودھ تمام تر غذاؤں سے بھرپور ہیں جس میں قدرتی طور پر کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جو ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہیں اس کو ہر قطرے کے بدلے 25 نیکیوں کا اجر ملتا ہے جس بچے کو اپنی ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے وہ دوسرے بچوں کی نسبت ذہین اور کمال صلاحیتوں کے حامل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماں کے دودھ کے حوالے سے اگست میں عالمی ہفتہ آگاہی منایا جاتا ہےہم آج اس مقصد کیلئے یہاں جمع ہوگئے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے کو ماں کے دودوھ کے حوالے سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں۔ ڈسٹرکٹ نیووٹریشںن منیجر احمد علی خان نے کہا کہ تمام خواتین کو چاہئیے کہ اپنے بچے کو 6 مہینے تک صرف اور صرف اپنا سینے کا دودھ پلایا کریں اور دیگر جانوروں کے دودھ میں صرف پروٹین پایا جاتا پے جبکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ ماں کی دودھ میں مکمل وٹامنز اور سب کچھ موجود ہیں۔ تقریب سے اپنے خطاب میں ضلع ملاکنڈ کے ڈی۔ایچ۔او ڈاکٹر صادق شاہ نے کہا کہ ماں کی دودھ بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کےلئے قدرتی غذا کی فراہمی ضروری ہے۔ ماں کے دودھ پلانے سے بچوں کی ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہے۔ سیمینار سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔