کراچی (مانند نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نا درا کے مستقل اور موجودہ ایڈریس کے ڈیٹا، بجلی، گیس کے میٹرز کی تعداد کی بنیاد پر کراچی کی آبادی کسی طور پر ساڑھے تین کروڑ سے کم نہیں ہے، اہل کراچی اپنی گنتی پوری نہ کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ایم کیو ایم محض چند لاکھ کے اضافے اور ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو شمار نہ کرنے پر خوشیاں منا کر اسے اپنا کارنامہ قرار دے رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے نگراں کابینہ میں چند وزارتوں اور اقتدار میں شرکت کے عوض ماضی کی طرح کراچی کی آبادی کا سودا کیا ہے۔ کراچی کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کو کم گننے اور اسے منظور کرنے کے جرم میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی برابر کی شریک ہیں،پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم بااختیار قوتوں کے کراچی دشمن فیصلوں کو عوام پر مسلط کرنے کا سیاسی ہتھیار ہیں اور دونوں کی ڈوریاں ایک ہی جگہ سے ہل رہی ہیں، پیپلز پارٹی کو معلوم ہے کہ کراچی کی آبادی جتنی زیادہ بڑھے گی، سندھ میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری اتنی ہی کم ہو گی۔ اس لیے پیپلز پارٹی نے کبھی کراچی کی اصل اور حقیقی آبادی کے لیے کسی فورم پر آواز نہیں اُٹھائی۔ایم کیو ایم نے کراچی کی آبادی پر سودے بازی کر کے سندھ میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی کی سہولت کاری کا کام کیا ہے اور اس عمل میں ایم کیو ایم کراچی کی آبادی کو اپنی ریڈ لائین قرار دینے کے نعرے کو بھی بھول گئی،2017کی طرح 2023کی ڈیجیٹل مردم شماری میں ایک بار پھر کراچی کی اصل آبادی، حقیقی نمائندگی و وسائل اور ملازمتوں کے جائز اور قانونی حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔جماعت اسلامی کراچی کی گنتی پوری نہ کرنے والی مردم شماری کو کسی صورت میں بھی قبول نہیں کرے گی کیونکہ آبادی کی بنیاد پر ہی قومی و صوبائی اسمبلی میں کراچی کی نمائندگی اور وسائل کی تقسیم ہو گی۔ اسی بنیاد پر پی ایف سی ایوارڈ میں کراچی کو اس کا حصہ ملے گا اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ اور دیگر وسائل بھی آبادی کی بنیاد پر ہی ملیں گے۔ اپنے بیا ن میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ2017میں نواز لیگ کے دور میں ہی ہونے والی مردم شماری کی 2018میں منظوری دینے اور کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کرنے کے غیر قانونی عمل کو قانونی بناتے وقت ایم کیو ایم حکومت کا حصہ اور وزارتوں میں شریک تھی آج بھی یہ حکومت کا حصہ ہے،جماعت اسلامی نے جن خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوئے، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسی جعلی اور متنازع مردم شماری کی آڑ میں عام انتخابات بھی ملتوی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایک طرف مردم شماری و خانہ شماری میں سنگین بے ضابطگیاں اور دھاندلی کی گئی۔ کراچی کی گنتی پوری نہ کرنے کے حوالے سے شدید اعتراضات اور تحفظات کے باوجود مردم شماری کو ادھورا ختم کر دیا گیا اور حتمی نتائج کے اعلان میں بھی تاخیر کی گئی اور اب اسی بنیاد پر عام انتخابات کو بھی التواء میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی انتخابات میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ہمارا واضح اور دو ٹوک مطالبہ ہے کہ حکومت اور اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے بعد عام انتخابات آئین و قانون کے مطابق اپنے وقت پر کرائے جائیں۔#