کراچی (مانند نیوز ڈیسک)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ملک میں ناقابل برداشت مہنگائی کے باوجود شوگر مافیا نے منافع کی خاطر ملک میں چینی کا نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ مافیا نے چینی کی قیمت میں از خوددس روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا ہے۔ اب بڑے شہروں میں چینی ایک ساٹھ روپے کلو مل رہی ہے جبکہ دیہات میں اسکی قیمت ایک سو ستر روپے تک بڑ گئی ہے۔ نگراں حکومت شوگر مافیا کو لگام ڈالے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سابقہ حکومت نے خدمت کے نعرے تو بہت مارے مگر ساتھ ہی شوگر مافیا کو کھلی چھوٹ بھی دی ۔موجودہ حکومت چینی کی برامد اور سمگلنگ مکمل طور پر بند کروائے تاکہ چینی کی قیمت کم کی جا سکے۔ شوگر ملوں کے تمام اخراجات اور ہول سیلرز و پرچون فروشوں کا منافع ملا کربھی چینی کی قیمت ایک سو روپے کلو سے زیادہ نہیں بنتی مگر عوام سے فی کلو ساٹھ روپے زیادہ وصول کئے جا رہے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ شوگر مافیا نے گوداموں میں لاکھوں ٹن چینی زخیرہ کی ہوئی ہے جسکو برامد کرنے کے لئے کریک ڈائون کیا جائے تو اسکی قیمت ایک دن میں ایک سو روپے کلو تک گر جائے گی۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سریا بنانے والوں نے بھی فی ٹن قیمت میں دس ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا ہے اور اب سریا شہروں میں دو لاکھ اسی ہزار سے دو لاکھ نوے ہزار روپے فی ٹن اور دیہی علاقوں میں تین لاکھ روپے فی ٹن تک بک رہا ہے۔ اس فیصلے سے تعمیراتی سرگرمیاں بری برح متاثر ہونگی۔انھوں نے کہا کہ نگران حکومت کے ابتدائی دو دن عوام پر بہت بھاری گزرے ہیںکیونکہ اس دوران ضروری اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔