شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کوئلہ کان مزدوروں کی لاشوں کا سلسلہ کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری،شانگلہ کے2اور کوئلہ کان کن مزدور کان کے اندرزہریلی گیس پھٹنے سے جان بحق ہوگئے۔سید جان اوراحسان اللہ ہفتے کی صبح کان میں کام کررہے تھے کہ حادثے کا چکار ہوگئے۔تعلق شانگلہ کے یونین کونسل رانیال کے علاقے چچلو سے ہیں۔رواں ماہ کوئلہ کان حادثوں میں شانگلہ کے 11مزدور زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔کل مائنز میں مسلسل حادثات شانگلہ کے کوئلہ کان مزدوروں کیلئے باعث فکر اور منتخب نمائندوں کے لئے شرمت ہے۔شانگلہ کے 65فیصد کان کنوں کیلئے کوئی روزگار موجود نہیں اور نہ انکے لئے کوئی علاج معالجے اور تعلیم کیلئے کوئی انتظام موجود نہیں۔کوئلہ کان حادثات میں زخمی ہونے والے اکثر مزدور معذور ہوجاتے ہیں۔کوئلہ کانوں میں غیر قانونی مایننگ، ناقص میٹریل، غفلت،لاپرواہی شانگلہ کے دو نوجوان مزدوروں کی زندگیا لے گئی۔دونوں مزدوروں کا تعلق یوسی رانیال چیچلو سے ہیں۔یاد رہے رواں ماہ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے11 کان کن مختلف حادثات میں جان کی بازی ہارگئے ہیں۔پاکستان بھر میں غیر قانونی مائننگ کا بھرمار ہیں مگر اس کے خلاف اب تک مقدمہ تک درج نہی ہوا ہیں۔شہید ہونے والے مزدوروں کے نام سید جان ولد عبدالجلیل، احسان اللہ ولد محمد ایو ب ہیں۔ کان کن مزدور درہ آدم خیل آخوروال الیاس کول کمپنی میں عرصہ دراز سے بند ماین میں کام کرنے کیلئے بھیجواے گئے تھے کہ گیس بھرنے سے واقعہ پیش آیا۔