پشاور(مانند نیوز ) قاضی خضر فاؤنڈ یشن مردان میں والدین کے سائے سے محروم بچوں کی کفالت اورتعلیم وتربیت کا شاندار اہتمام کیا جائے گا۔ اس ادارے میں بچوں کی صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ تعلیمی، تربیتی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی ضروریات کا بھی ہر ممکن خیال رکھا جاتا ہے۔ اس ادارے کا نصب العین ان بچوں کو مفید اور معزز شہری بنانا ہے کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں ہنر مند اور اعلیٰ ذہن کے طلبہ کو میدان فراہم کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار قاضی خضر فاؤنڈ یشن مردان کے بانی قاضی محمدخضر حیات نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا،انہوں نے کہا کہ قاضی خضر فاؤنڈ یشن کایہ منصوبہ اپنی نوعیت کا منفر د منصوبہ ہے جو مردان میں قائم ہوگا بلکہ خبیر پختونخوا کا واحد منصوبہ ہے جہاں پر یتیم بے سہارا غریب،شہیدائکے بیوہ اور دیگر ایسے طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد جو معاشرہ میں اپنے بچوں کو بہترین درس گاہوں میں تعلیم دلانے کے خواہش مند نہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی پورا کرنا ان کے لیے مشکل بلکہ نا ممکن ہو رہاہے توایسے افراد کے لیے ایک ایسے ادارے کے قیام کو اشد ضرورت محسوس کی گی جس میں غریب نادر یتیم مسکین بیوہ کا بچہ شاہانہ طریقے سے تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کرے لیکن یہ اس وقت ممکن ہو گا جب مردان کے مخیر حضرات دل کھول کر عطیات دیں گے یہ پراجیکٹ مردان کی شان بان میں پوری دنیا میں روشن کرے گا کیونکہ اس کے قیام کا مقصد یتیم اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے زیادہ سے زیادہ معصوم بچوں کو محفوظ چھت فراہم کرنا، اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا اور انہیں معاشرے کا کارآمد اور قابل فخر انسان بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری اولین ترجیح 400 بچوں کی بھر پور کفالت کی صلاحیت کے حامل ادارے کا ہدف حاصل کرنا ہے، قاضی خضر فاؤنڈ یشن ایک ایسا ماحول روائتی کفالتی اداروں کے برعکس انتہائی خوشگوار، منظم اور گھریلو پیش کرنے کا خواہا ں ہے جو یتیم بے سہارہ لاچار و غریب بچوں کے لیے بہترین مستقبل کا ضامن بن کر طلوع ہوگا بچے یہاں پر اپنے مشفق اساتذہ کے زیر سایہ بھائیوں کی طرح تعلیم حاصل کریں گے جب کہ اساتذہ بھی اپنے حسن اخلاق سے ان بچوں کو والدین کی کمی کا احساس نہیں ہونے دین گے۔ قاضی محمدخضر حیات نے کہا کہ دنیا بھر کے بچوں کو اپنی شخصیت کے نکھار اور اپنے تعلیمی اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے انفرادی توجہ کی سخت ضرورت ہو تی ہے۔ لہذا بچوں کے اس فطری تقاضے کو پورا کر نے کے لیے قابل ترین ٹیوٹرز کا اہمتام کیا جائے گا۔ جو مخصوص اوقات میں تمام بچوں کی تعلیمی ونفسیاتی مشکلات کو انفرادی سطح پر حل کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم وتربیت بچوں کی ذہنی ارتقائاور روحانی نشوونما کے لیے تفریح بھی از حد ضروری ہے۔ بچوں کی تفریح یقینی بنانے کے لیے قاضی خضر فاؤنڈ یشن نے سال بھر میں مختلف تفریحی سرگرمیوں کو اپنے شیڈول کا باقاعدہ حصہ بنائے گی اورماہانہ بنیادوں پر بچوں کوتفریحی مقامات پر لے جا یا جائے گا اور تعلیمی تفریح کے لیے بچوں کومیوزیم، معلوماتی اورتاریخی مقامات کی سیرکرائی جائے گی تاکہ بچے گھر جیسے ماحول سے مانونس ہو کر تعلیم پر دھیان دیں اور اس کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ روحانی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف دینی وروحانی تقریبات میں بطور خاص شریک کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسلام کی اصل روح سے آشنا ہو کر ایک اچھے مسلمان بن سکیں۔