وانا (مانند نیوز) پشتون تحفظ موومنٹ جنوبی وزیرستان کے زیرِ اہتمام قومی غوندہ کے نام پر جلسے کا انعقاد کیا گیا، جسمیں علاقائی مشران، نوجوانان، پاکستان تحریک انصاف جنوبی وزیرستان کے قائدین، پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کے علاؤہ تمام مکتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، منتظمین نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں امن و امان اور علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جنوبی وزیرستان ریاستی سرپرستی میں عوام کو منتشر کیا جا رہا ہے، نوجوان اور مشران کے درمیان نفرت انگیز پروپیگنڈہ ریاستی سرپرستی میں جاری ہے، جسکا روکھتام بہت ضروری ہے۔ آمن و امان ریاست کی ذمّہ داری ہے۔منتظمین کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعہ 25 ستمبر 2023 کو قومی مشران کے پریس کانفرنس میں بھی اس بات کی وضاحت کی گئی کہ حکومت اور ریاستی مشینری رٹ بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس سے صاف واضح ہے کہ ریاست مزموم عزائم کیلئے خلا پیدا کر رہا ہے۔ موجودہ حالات اور مستقبل قریب میں دہشتگردی کی نئی لہر کا حدشہ لاحق ہو سکتا ہے، منتظمین نے حکومت کے سامنے چند مطالبات پیش کئے، تمام مسلح تنظیموں اور غیرقانونی مسلح سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ ریاست علاقے میں اپنا آئینی رٹ قائم کریں، چوری، ڈکیتی، بھتہ خوری اور منشیات کے خلاف قانونی کاروائی کریں۔ وزیرستان کے تمام چیک پوسٹ 24 گھنٹے کھول دیا جائے، عوام کی تذلیل بند کی جائے، اور پولیس نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور تاجروں سے غیر قانونی بھتہ لینا بند کریں۔ عوام کی جان و مال اور عزت کی تحفظ یقینی بنائی جائے۔ آرٹیکل 19 کے تحت انٹرنیٹ ہمارا آئینی حق ہے، لہذا جنوبی وزیرستان بالخصوص تحصیل برمل، مکین، لدھا، شوال، شکتیوئی، سرویکی وغیرہ میں انٹرنیٹ سہولت بحال کیا جائے۔ پولیس سیاسی کارکنان اور سوشل ایکٹیویٹیس کی غیر قانونی گرفتاریاں اور گھروں پر بغیر لیڈیز کانسٹیبل کے چھاپے فوراً بند کریں۔ وزیرستان میں رہنے والے افغان باشندوں کی جان و مال اور عزت کی تحفظ یقینی بنائی جائے، اور افغان بھائیوں کو جلد مہاجر کارڈ جاری کیا جائیں۔جلسے منتظمین نے وزیرستان کے عوام سے چند مطالبات کی ڈیمانڈ کی، ریاست کی سرپرستی میں جاری انتشار و تقسیم کی پالیسیوں کے خلاف ایک منظم اور سیاسی جد وجہد کا آغاز کریں اور مضبوط مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ گے بڑھے۔ پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر تجارتی سرگرمیاں پوری ایک سال سے معطل ہے، تاجر برادری انگوراڈا گیٹ پر تجارت بحال کرنے کیلئے متفقہ پلیٹ فارم بنائے۔ عوام ریاستی انتشار کا حصہ نہ بنے اور اتفاق و اتحاد سے علاقے کے امن و امان کیلئے سیاسی جد وجہد کریں۔ فلاحی تنظیمیں وزیرستان میں منشیات، چوری و ڈکیتی کے روکھتام کے حوالے سے قوم کے نوجوانوں کیلئے شعور اور آگاہی مہم جاری کریں۔آخر میں پشتون تحفظ موومنٹ جنوبی وزیرستان کے کوآرڈینیٹر شہزاد وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز نیشنل پریس کلب آسلام آباد میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی معراج خالد وزیر کے خاندان والوں نے پریس کانفرنس کیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرستان کے عوام ایک ظالم قوم ہے، یہ پوری قوم کیلئے شرم کا مقام ہے، کہ وزیرستان کے نڈر صحافی معراج خالد وزیر کو جنوبی وزیرستان کے خاندان کو ضلع بدر کیا جاتا ہے اور ان کی معصوم بچے پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔