مقبوضہ بیت القدس(مانند نیوز) فلسطینی مزاحمتی تنظیم اور غزہ کی حکمراں جماعت حماس نے آپریشن الاقصی طوفان کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل پر بڑا حملہ کردیا،حماس نے صیہونی ریاست پر 20 منٹ میں پانچ ہزار راکٹ برسا دئیے، درجنوں عمارتیں زد میں آگئیں، جگہ جگہ آگ بھڑک اٹھی،مجاہدین نے سرحدی چھاؤنی پر قبضہ کرکے 35صہیونی فوجیوں کو قیدی بھی بنالیا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ پر راکٹ حملوں میں کم از کم 6 اسرائیلی ہلاک اور 200افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 50 سے زائد افراد مختلف عمارتوں میں گھس گئے، حماس نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے بھی ہتھیار اٹھانے کی اپیل کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ سے اسرائیل پر 5ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے گئے اور متعدد فلسطینی مجاہدین اسرائیل میں داخل ہوگئے جہاں ان کی سڑکوں اور گلیوں میں اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔ مجاہدین نے 35صہیونی فوجیوں کو قیدی بھی بنالیا ہے۔حماس کے فوجی ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ کمانڈر محمد الضیف ابو خالد نے آپریشن الاقصی طوفان شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے مسجد الاقصی میں مسلسل اشتعال انگیزی اور فلسطینیوں پر مظالم کا جواب ہے۔راکٹ باری کے نتیجے میں اسرائیل کو بھاری مالی نقصان کا بھی سامنا ہے، اس کے متعدد قصبوں سے سیاہ دھوئیں کے بڑے بادل اٹھ رہے ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور اسرائیلی فوج نے حالت جنگ کا اعلان کردیا۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع نے اضافی فوج طلب کرنے کی منظوری دے دی،غزہ میں اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کردیا گیا، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے سیکورٹی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کے طیاروں نے بھی غزہ کی پٹی پر بمباری شروع کردی۔ ادھرمقبوضہ فلسطین کی آبادیوں میں فلسطینی نوجوان حماس کے مجاہدین کا استقبال کرتے ہوئے ان کا خیر مقدم بھی کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ غزہ کے ساتھ اسرائیلی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مقبوضہ غرب اردن میں شدید لڑائی کے کئی ہفتوں بعد حماس نے یہ حملہ کیا ہے۔