شانگلہ(مانند نیوز ڈیسک)شانگلہ یوتھ فرنٹ کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، شانگلہ یونیورسٹی کا خاتمہ، سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی جاری منصوبوں کی بندش، گورنمنٹ ڈگری کالج الپوری میں کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا ممکنہ خاتمہ، شانگلہ کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں فنڈ کی بندش سمیت کوئلہ کان مزدوروں کے حقوق پر بلائے گئے آل پارٹی کانفرنس میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی شرکت۔ مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ، تحصیل میئر الپوری وقار احمد خان، جمعیت علماء اسلام کے رہنماء عماد اللہ خان میئرا،سابق سنیٹر مولانا راحت حسین، عوامی نیشنل پارٹی کے متوکل خان ایڈوکیٹ، پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر افسر الملک، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی ترجمان الطاف حسین گلاب، تحصیل میئر بشام حاجی سدید الرحمان، تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، مختلف یونین کونسلوں کے ناظمین، ولج کونسلوں کے چیئرمین، سوشل ایکٹیوسٹ، سیاسی و سماجی سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔ شانگلہ یوتھ فرنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں مقررین نے واضح کیا کہ شانگلہ انتہائی پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں یونیورسٹی کا قیام جس نے بھی کیا اس پسماندے علاقے کے طلباء اس سے مستفید ہو رہے ہیں تاہم اب اس کا خاتمہ کسی صورت قبول نہیں، اس وقت شانگلہ یونیورسٹی میں 800 تک طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس کا خاتمہ ناقابل قبول ہے۔ شانگلہ یونیورسٹی کے خاتمے کے حوالے سے سابق سینٹر مولانا راحت حسین نے شرکا کو کہا کہ وہ ایک وفد بنائیں جو اس حوالے سے گورنر خیبر پختون خواہ غلام علی سے ملاقات کریں گے اور اپنے تشویش سے انھیں آگاہ کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جب یونیورسٹی کی خاتمے کی بات شروع ہوئی تھی تو اس وقت شوکت یوسف زئی گورنر خیبر پختون خواہ کو شانگلہ یونیورسٹی کے خاتمے کے حوالے سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ شانگلہ یونیورسٹی برقرار رہے گی۔ آل پارٹی کانفرنس میں شرکا ء نے اس بات پر اتفاق ہوا کہ کمیٹی بنائی جائے گی جو گورنر خیبر پختون خواہ سے اس حوالے سے ملاقات کرے گی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج الپوری میں کیمسٹری کے پروفیسرز کے تباد لے کے بعد اس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے پر سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ وہ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن سے فوری رابطہ کر کے پروفیسر ان کا تبادلہ منسوخ کریں گے یا نئے پروفیسران کی تعیناتی کی بات کریں گے۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ کوئلہ کان مزدوروں کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھانے اور ان کو درپیش مسائل اور رجسٹریشن کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ جمعیت علماء اسلام کے سابق امیدوار تحصیل بشامحماد اللہ خان نے کہا کہ اس وقت صوبہ انتہائی مالی بحران کا شکار ہے اس لیے یہاں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ جاری ممکن نہیں۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شانگلہ یوتھ فرنٹ کے طارق رؤف اور پرنس فضل حق نے کہا کہ اس وقت شانگلہ میں غیر یقینی صورتحال ہے، شانگلہ یونیورسٹی کا خاتمہ، آئے روز کوئلہ کان سے لاشیں، ترقیاتی منصوبوں کی فنڈز کی بندش، سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے لیے باعث فکر ہونا چاہیے ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شانگلہ میں تعلیم دشمن اقدامات نظر آرہے ہیں کبھی ڈگری کالج الپوری پروفیسران کا تبادلہ کیا جاتا ہے تو کبھی یونیورسٹی کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے ان سارے معاملات پر شانگلہ کی سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرناچاہیے۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے