صوابی ( مانند نیوز)جماعت اشاعت التوحید والسنہ کا چار روزہ سالانہ اجتماع اتوار کو دارالقرآن پنج پیر میں اختتام پذیر ہوا مرکزی امیر شیخ القرآن مولانا محمد طیب طاہری نے اختتامی دعا اور خطاب کیا اس موقع پر ملک کی سلامتی امت مسلمہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اس اجتماع عام میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام ۔ طلبہ اور ہر مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اجتماع سے جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان سمیت کئی علماء کرام نے خطاب کیا مولانا محمد طیب طاہری نے اختتامی خطاب میں کہا کہ جب پہلے افغانستان میں مسلمانوں پر روسیوں نے یلغار کی تو اس وقت بھی ہم نے افغان بھائیوں کی مدد کی تھی اگر حکومت اجازت اور راستہ دے تو ہم اشاعت التوحید و سنتہ فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ ھمارا اصل کام ذہنی ھم اہنگی پیدا کرنا تھا لوگ متحد ہوکر پھر میدان عمل میں نکلےالحمدللہ ذہنی ھم اہنگی پیدا ہوچکی ہیں اور لوگ متحد ہو چکے ہیں تھوڑا سا انتظار ہیں مکمن سب کچھ جلدی ہوجائے انہوں نے کہا کہ ہم نے فلسطین کے لئے آواز اٹھائی یے جب اقدام کرینگے تو سب دیکھیں گے جماعت اشاعت التوحید والسنہ اس ملک سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کے اصلاح اور قرآن وسنت کی اشاعت کے لئے عملی کردار ادا کر رہی ہے تاکہ دنیا بھر کے مسلمان قرآن وسنت کی تعلیمات سے روشناس ہوسکے اور یہ سلسلہ دنیا بھر میں جاری ہے اجتماع سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیرمین مولانا عبد الخبیر آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی نہتے عوام بچوں اور ھسپتالوں پر بم برسا رہے ہیں بچے اور جوان شھید ہو رہے ہیں ہزاروں لوگوں کی شہادت کس کے سر جائے گا انہوں نے کہا کہ اج امت مسلمہ کو متحد ہوکر اسرئیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اگر اج ہم نہیں اٹھے تو پھر کبھی نہیں کھڑے ہوسکتے پوری امہ کو فلسطینیوں کی سپورٹ کرنی چاہئے اگر آج امت مسلمہ ان کی سپورٹ نہ بنے تو یاد رکھے کل یہ دن ہم پر بھی دن آسکتا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ کل پوری مسلم امہ اس پر سوچ رہی ہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے