وانا (مانند نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی نصیر اللہ خان وزیر نے جنوبی وزیرستان لوئر حلقہ پی کے 110 سے پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹرین کی ٹکٹ پر لڑنے کا اعلان کر دیا۔ جنوبی وزیرستان لوئر کے رہائشیوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے نام پر کروڑوں کے فنڈز لینے والا نصیر اللہ خان وزیر اب اہل علاقہ کو قبول نہیں ہے۔ اہلیان وزیرستان کے مطابق انہوں نے پاکستان تحریک انصاف دور حکومت میں علاقہ کے لئے وہ کام نہیں کئے جو ان سے اہل علاقہ توقعات تھے۔ نصیر اللہ وزیر جنوبی وزیرستان پی کے 110 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہر منتخب ہوئے تھے مگر وہ اب پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ کر پرویز خٹک کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ وہ اسی بار جنوبی وزیرستان لوئر سے پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کی ٹکٹ پر لڑے گے۔ علاقے عمائدین کے مطابق نصیراللہ خان وزیر نے اپنے تین سالوں میں صرف ایک بار وانا کا دورہ کیا گیا تھا اور نہ ہی ان کو وہی لوگوں کی سوچ و فکر تھی، وہ صرف اور صرف سکیموں کے پرسنٹیجوں میں مصروف تھے، جنوبی وزیرستان لوئر میں احمد زئی قبائل کے درمیان کافی زیادہ مسئلے مسائل پیش ہوگئے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے آنے کی زحمت نہیں کی، وہ خود پشاور میں بیٹھ کر مستیاں کر رہے تھے، علاقے عمائدین کے مطابق وانا میں کارکنڑا کے تنازعہ، گورگورا تنازعہ، خونئے خیل اور سپیرکائی کے درمیان تنازعہ اور سپیرکائی اور محسود نانوخیل کے تنازعہ پر خاموشی اختیار کی، اس کے علاؤہ وانا میں بدامنی کی صورتحال میں وانا اولسی پاسون نے اختجاجی دھرنا دیا ہوا تھا، اس کو سابق ایم پی اے نصیراللہ خان وزیر نے آنے کی زحمت نہیں کی، علاقے عمائدین کے مطابق ایک بار آزمانے والے شخص سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں، علاقے عمائدین کے مطابق اس بار نصیراللہ خان وزیر کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسلئے کہ جب وہ ایم پی اے تھا اس وقت ان کے ساتھ علاقے کے لوگوں کا کوئی غم نہ تھا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے