اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔اس کیس کا 125 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا، انہوں نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941 کے ایک جملے سے کی۔تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہورِ زمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے، برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے۔23 اکتوبر 2023 کو سنایا گیا مختصر فیصلہ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ سے بنیادی حقوق سے متعلق سوال پوچھا گیا، سپریم کورٹ سے پوچھا گیا کہ کیا آئین کے تحت سویلینز کا فوجی ٹرائل ہوسکتا ہے۔تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سے پوچھا گیا کہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر آئین کیا کہتا ہے، درخواست گزاروں نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر عدالت کی رائے مانگی، عدالت نے 23 اکتوبر 2023 کو سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کا حکم دیا۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے، انہوں نے 48 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ تفصیلی فیصلہ پانچ میں سے چار ججز کا اکثریتی فیصلہ ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی کی رائے تفصیلی فیصلے کا حصہ نہیں ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے آرمی ایکٹ کی شقیں کالعدم قرار دینے پر رائے محفوظ رکھی ہے۔تفصیلی فیصلے کے مطابق آئین دو صورتوں میں چلتا ہے، ایک امن کے اور دوسرا ایمرجنسی کے زمانے میں، ایمرجنسی کا نفاذ آرٹیکل 232 کے تحت ملک کو درپیش خطرات کی صورت میں ہوتا ہے، آرمی ایکٹ کی کالعدم قرار دی گئی شقیں ایسے وقت میں شامل کی گئیں جب ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ تھا۔تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ملک میں سویلینز کے ملٹری کورٹس ٹرائل کے لئے کی گئی ترمیم بھی 2019 میں ختم ہوچکی، سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ صرف 103 افراد تک محدود نہیں۔