پشاور(مانند نیوز ) صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم خیبر پختون خوا جرنلسٹس ویلفئیرانڈونمنٹ فنڈ میں حالیہ صوبائی نگران حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر خرد برد اور بندر بانٹ کی خبریں زیرگردش ہونے پر سینئر صحافی اور داؤدزئی پریس کلب کے صدر نے تین ماہ قبل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختون خوا کے پبلک انفارمیشن آفیسر سے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت امسال 2023میں جرنلسٹس ویلفئیرانڈونمنٹ فنڈ بارے معلومات کے حصول کے لیے مختلف درخواستیں صوبائی محکمہ کو جمع کی۔ جو کہ محکمے نے مقررہ مدت گزر جانے کے بعد بھی فراہم کرنے سے کتراتی رہی۔ سینئر صحافی کی جانب سے خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن کو معلومات کے حصول کے لیے آن لائن شکایت درج کرنے کے بعدبھی دو ماہ گزر جانے کے باوجود انفارمیشن کمیشن نے شکایت کو زیر التواء رکھتے ہوئے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے لیے سہولت کار کے طور پر آلہ کار بن گیا۔ واضح رہے کہ سینئر صحافی کی جانب سے جمع کی گئی مختلف درخواستوں میں محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ سے سابقہ نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال کی زیر صدارات سال 2023کے لیے جرنلسٹس ویلفئیر انڈونمنٹ فنڈ کمیٹی کے دونوں اجلاسوں کی تفصیلات مانگی تھی۔ ان دونوں اجلاسوں میں شریک کمیٹی ممبران کی حاضری شیٹ سمیت ان تمام مستحق صحافیوں کی فہرست جن کو مالی معاونت یا دیگر گرانٹ دونوں اجلاسوں برائے سال 2023کے لیے منظوری دی کی تفصیلات طلب کی تھی۔ سینئر صحافی کی جانب سے اُن مستحق صحافیوں کی بھی فہرست معلومات تک رسائی کے تحت طلب کی جن کی مالی معاونت یا گرانٹ کی درخواستیں مسترد کی گئی تھی۔ یہ بھی معلومات طلب کی گئی کہ جرنلسٹس ویلفئیر انڈونمنٹ فنڈکے ترمیمی ایکٹ 2019کے شق 5کے ضمنی شق 2کے مطابق اس کمیٹی میں شامل صوبے کے5 پریس کلبوں کی نامزدگی کے نوٹیفیکیشن بھی فراہم کی جائے۔ لیکن ان اہم اور عوامی مفاد پر مبنی معلومات دینے سے دونوں صوبائی محکمے خیبرپختون خوا انفارمیشن کمیشن اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختون خوا آئین شکنی کے مرتکب ہو رہیں ہیں۔ سینئر صحافی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے بدعنوانی نہ کرنے اور نہ کرنے دینے کے دعوے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے معلومات کو عام کرنے کے احکامات صادر کرئے۔