انقرہ(مانند نیوز ڈیسک) ترکیہ کے بلدیاتی انتخابات میں صدر اردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی)اے کے پارٹی(کو شکست ہوئی ہے، دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ملک کے 17 شہروں میں میئر کی نشستوں پر حزبِ اختلاف کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی۔ استنبول کے میئر امام اوغلو کو تقریبا 10 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی جبکہ انقرہ میں موجودہ اپوزیشن میئر منصور یاواش کی جیت کا جشن منانے کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ بڑھتی مہنگائی اورغزہ جنگ ترک صدرکی پارٹی کو لے ڈوبی، صدر اردوان اور ان کی جماعت کو دو دہائیوں سے زیادہ کے اقتدار میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ حزبِ اختلاف کی ریپبلکن پیپلز پارٹی نے 70 سال بعد تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔بلدیاتی الیکشن میں صدرطیب اردوان کی اے کے پارٹی کو بڑا دھچکا، استنبول، انقرہ، ازمیر اور آدانا سمیت تمام بڑے شہروں سے صفایا ہوگیا۔ انقرہ اوراستنبول میں اپوزیشن نے میئرکے انتخاب میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ حزب اختلاف اکیاسی میں سے 36 صوبوں میں کامیاب ہوگئی۔ انتخابات میں ووٹرٹرن آؤٹ 78.53رہا، حزب اختلاف کی سیکولر ری پبلکن پیپلز پارٹی نے 37.32 فیصد اورترک صدر کا کنزرویٹو جمہوری اتحاد35.78 فیصد حاصل کرسکا۔ اپوزیشن نے بڑے شہروں میں فتح کا جشن منایا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اپوزیشن رہنماں نے کہا شخصی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔رپورٹس کے مطابق تجزیہ کار بڑھتی مہنگائی کو بھی حکمراں جماعت کی خراب کارکردگی کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر بلدیاتی انتخابات میں حکمران اے کے پارٹی کو 340 اور حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) کو 240 اضلاع میں برتری ہے۔