اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)ایران نے اسرائیل پر 300 سے زائد ڈرون اور کروز میزائل سے حملہ کردیا، اسرائیل نے امریکا اور اردن کی مدد سے متعدد ایرانی میزائل مار گرائے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے درجنوں ڈرون اور میزائل لانچ کرکے اسرائیل کے مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر وسیع پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں، اس حوالے سے اسرائیلی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے 300 سے زائد ڈرون اور کروز میزائل بھی فائر کیے ہیں۔
ایران کے وزیر دفاع نے ایک بیان جاری کرکے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ان میں سے جو بھی ڈرون کو روکنے کے لیے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل پر فوجی کارروائی دمشق میں ایرانی سفارتی احاطے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کی گئی، معاملہ اب ختم سمجھا جا سکتا ہے۔
ایرانی مشن نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیلی حکومت نے کوئی اور غلطی کی تو ایران کا ردعمل کافی زیادہ سخت ہوگا۔
ایرانی مشن نے مزید کہا کہ یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع ہے، امریکا کو اس سے دور رہنا چاہیے۔
ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے درجنوں ایرانی میزائلوں میں سے کچھ میزائلوں سے اسرائیل میں حملہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے میں ایک لڑکی زخمی ہوئی ہے جبکہ جنوب میں ایک فوجی تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق خطرات ابھی ٹلے نہیں، فورسز خطرات کا مقابلہ کررہی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں خوف کی فضا ہے جبکہ تمام اسکولز اور تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گولان کی پہاڑیاں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانے ایران کے حملوں کا نشانہ بنے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا، اسرائیلی اڈوں کو خیبر میزائلوں سے ٹارگٹ کیا گیا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے