شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ میں ایمبولنس کا معاملہ شدت اختیار کیا گیا منگل کے روز تحصیل الپوری اور دیگر منسلکہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف پارٹیوں کے مشران اور سماجی رہنماؤ کا ایمبولنس تقسیم میں ڈسٹرکٹ کواٹر ہسپتال الپوری کو نظر انداز کر نے کے خلاف احتجاجی کا اعلان کرتے ہوئے شانگلہ ایکشن کمیٹی اور موجود اور سابق ارکان اسمبلی سے معاملہ حل کرنے کا مطالبہ۔ غوربند ایکشن کمیٹی اور دیگر مقامی تنظیمیں متحرک۔ سب سے بڑے ہسپتال کو تعصب کے بنیاد پر ایمبولنس سے محروم کرنے کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور دیگر سوشل ایکٹیوسٹ کی جانب سے شانگلہ ایکشن کمیٹی کو صورتحال کا جائز لینے کے لیے گرینڈ جرگہ بلا کر عوامی تحفظات صوبائی حکومت اور مطلقہ محکمے تک پہنچانے کیلئے اقدامات شروع کرنے پر زور۔ سوشل میڈیا پر مختلف اکاؤنٹس سے ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری چھینی جانے والا ایمبولنس کے کے حوالے سے مختلف پوسٹ وائرل کرتے ہوئے حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر شدید تنقید الپوری حلقے کا کوئی وارث نہیں دوسرے حلقے کا بندہ یہاں سے منتخب رکن اسمبلی ہے اور وہ اپوزیشن لیڈر ہیں وہ بھی معاملات سے خبر ہونے کے باوجود اپنی سیاسی ساک بچانے کے لیے اقدامات کے بجائے صرف تسلی دے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف شانگلہ کے رہنما شدید دباؤ کا شکار۔ سوشل میڈیا پر ہونے والے پوسٹ وائرل پر ماضی کی طرح بحث و مباحثہ کے بجائے خاموش ہیں۔ شانگلہ کے عوامی حلقوں کی جانب سے شانگلہ ایکشن کمیٹی کی کو فوری طور پر گرینڈ جرگہ بلانے پر زور دے رہی ہیں۔۔