جمرود(مانند نیوز)تیراہ راجگال کوکی خیل پکدرہ کے علاقے کو متاثرین کی 14 سال بعد واپسی شروع۔امدادی پیکج میں خوراکی سامان نہیں۔ کیا ہم گھاس کھائے گے۔متاثرین تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر کے دورافتادہ علاقے وادی تیراہ راجگل کوکی خیل کے دوسرے مرحلے کی واپسی شروع ہوگئی اور پکدرہ کے علاقے کو 180 افراد پر مشتمل ساٹھ خاندان پہنچ گئے جہاں پر انٹری کرکے ضروری پیکج دیا گیا۔14 سال بعد اپنے علاقوں کی واپسی کرنے والے متاثرین کو آبائی گاؤں پہنچنے پر سیکورٹی فورسز حکام،ضلعی انتظامیہ کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ایمل خان،تحصیلدار سید محمد افریدی،تحصیلدار شاہد خان آفریدی،پی ڈی ایم اے کے غنی آفریدی نے استقبال کیا اور متاثرین کو پیکجزجس میں ٹینٹ،کمبل،کیچن کا سامان،پانی کے برتن وغیرہ حوالے کئے جہاں پر متاثرین اپنے علاقے کو روانہ ہوئے۔متاثرین نے مشرق کو کہا کہ 14 سال بعد اپنے علاقے کو پہنچ گئے جہاں پر ان کے گھر، زراعت،سڑکیں،تعلیمی ادارے تباہ ہوچکے ہیں اس لیے حکومت ہمارے نقصانات کا ازالہ جلد سے جلد کریں تاکہ اپنے گھروں و دیگر املاک کو بحال کریں۔انہوں نے کہا کہ 14 سال پہلے یہاں پر عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد ہم حکومت کے کہنے پر علاقے سے نقل مکانی کی اور جمرود و دیگر پر امن علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے پاک فوج کی آپریشن کے بعد علاقہ کلئیر ہوگیا اور ہم اپنے علاقوں کو آگئے لیکن یہاں پر ہر طرف بربادی ہی بربادی نظر آئی ہمارے قلعے نما گھر تباہ ہوچکے ہیں،زراعت تباہ ہوچکے ہیں اس لیے ہمارا قربانیوں کا صلہ دے کر ہمارے نقصانات کا ازالہ کرکے سہولیات و ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کردیا جائے،انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ واپسی کے وقت ضلعی انتظامیہ نے خوراک کا بندوبست تک نہیں کیا اور نہ پکدرہ کے لنک روڈ کو تعمیر کیا جس سے متاثرین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پیکجز میں راشن تک نہیں دیا گیا۔کیا ہم یہاں پر گھاس کھائے گے؟ جوکہ ظلم کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ خیموں میں زندگی بسر کرنا مشکل ہے اس لیے ہمارے گھروں کی تعمیر کے لیے سروے شروع کرکے معاوضہ میں اضافہ کیا جائے۔