مظفر آباد( مانند نیوز)ازاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں  مظفر آباد ڈویژن کے  9 انتخابی حلقوں میں  عوامی احتجاج کے باعث ووٹنگ کا عمل  بری طرح متاثر ہوا جبکی ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں انتخابات  ملتوی کر کے 4 اگست کو کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔مظفرآباد میں احتجاجی مظاہروں کے بعد شہر کے حالات کشیدہ ہیں ۔ لگ بھگ تمام گنجان آباد علاقوں گوجرہ، طارق آباد، اپر پلیٹ، سینٹر پلیٹ، لوئر پلیٹ، سماں بانڈی اور چیلہ بانڈی میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں لینڈ سلائیڈنگ اور بارش کے باعث پولنگ موخر کی گئی ہے۔ جبکہ دیگر آٹھ حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے جن میں ڈویژن کے تین اضلاع مظفرآباد کے دیگر چار، جہلم ویلی کے دو اور نیلم کے دو حلقے شامل ہیں۔  عوامی احتجاج کے باعث پولنگ  مٹیرل اور عملہ  زیادہ تر پولنگ اسٹیشنز تک پہنچ ہی نہیں سکا اسی لیے  ایل اے 27 (مظفر آباد ون)  کا انتخاب ملتوی کیا گیا ہے  جبکہ دیگر   حلقوں  میں بھی صورتحال  صورتحال ٹھیک نہیں ہے  ادھر مظفرآباد میں عوامی   احتجاج کے بعد ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق مظفرآباد میں الیکشن کے پُرامن انعقاد کے لیے 18 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس اور رینجرز شامل ہیں۔ جبکہ مظفرآباد کے حلقوں ایل اے 5 کھاوڑہ اور ایل اے 3 لجرہ کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔  کھاوڑہ میں   میں فائرنگ کے نتیجے میں پی پی پی کے کارکن مشتاق شاہ جاں بحق  ہوگئے  پانچ افراد زخمی ہوگئے   ۔حلقہ پانچ کھاوڑہ میں قائم مقام صدر وامیدوار پیپلزپارٹی چوہدری لطیف اکبر پر بھی حملہ ہوا ہے  تاہم وہ محفوظ رہے  ۔چوہدری لطیف اکبر نے مشکل سے اپنی جان بچائی۔دوسری جانب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملے کا نوٹس لے لیا۔وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر اور آئی جی پولیس سے ذمہ داروں کو فی الفور کیفرکرداراور گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیا۔پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن سیل نے حلقہ ایل اے 25 کے امیدوار میاں عبد الوحید نے چیف الیکشن کمشنر کو ہنگامی شکایت ارسال کردی۔میاں عبدالوحید کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مضبوط پولنگ اسٹیشن پر مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹ کی جانب سے بیلٹ پیپر پھاڑنے کے بعد پولنگ مکمل طور پر معطل ہو گئی جس کے باعث ووٹرز احقِ رائے دہی سے محروم ہو رہے ہیں۔    ادھر  بی بی سی  کے مطابق شہر کے صدر مقام پر اہم سرکاری عمارتوں اور نسبتاً محفوظ علاقوں کے پولنگ سٹیشنز پر گہما گہمی تو دکھائی دی لیکن ووٹ ڈالنے والوں کے مقابلے میں پنجاب پولیس کے اہلکار کہیں زیادہ نظر آئے۔ان کے مطابق دوپہر 12 بجے تک بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹروں کی تعداد نہایت کم تھی۔ انتخابی عملے نے اس کی وجہ اتوار کی چھٹی اور بارش بتائی۔ ایک پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر امجد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جن علاقوں میں ماحول کشیدہ تھا، وہاں عملے کو بھی سکیورٹی کلیٔرنس کے باعث علی الصبح پولنگ سٹیشنز پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دور دراز علاقوں کے بعض پولنگ سٹیشنز تک خراب موسم اور احتجاج کے باعث بند راستوں کی وجہ سے عملہ دوپہر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔’جن پولنگ سٹیشنز کا بی بی سی نے دورہ کیا، وہاں پولنگ مجموعی طور پر پُرامن مگر انتہائی سست رفتار تھی۔ گذشتہ رات احتجاج اور جھڑپوں سے متاثرہ علاقوں میں بھی ووٹنگ جاری تھی تاہم ایک مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوا اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد بی بی سی کی ٹیم کو وہاں سے فوری طور پر نکلنا پڑا۔کشیدگی کے باعث اس پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ روک دی گئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوتی   مظفر آباد میں مقامی پولیس کے علاوہ الیکشن کے دوران سکیورٹی فرائض ادا کرنے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی شہر میں موجود ہے۔ مگر مظفرآباد میں احتجاجی مظاہروں کے بعد شہر کے حالات کشیدہ تھے۔ لگ بھگ تمام گنجان آباد علاقوں گوجرہ، طارق آباد، اپر پلیٹ، سینٹر پلیٹ، لوئر پلیٹ، سماں بانڈی اور چیلہ بانڈی میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں۔ایک مقام پر مظاہرین گاڑیوں میں سوار افراد سے دوٹوک لہجے میں کہہ رہے تھے کہ ‘گاڑی واپس گھما لیں، بس اس سے زیادہ ہم بات نہیں کریں گے!’ مظاہرین میڈیا سے بھی ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔ کپڑے سے اپنا چہرہ چھپائے ایک نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘نہ ہماری خبر دیتے ہیں اور نہ ہمارا موقف بتاتے ہیں، انھیں ہم اپنے علاقے میں کِس لیے جانے دیں؟’ مظاہرین نے بی بی سی کی ٹیم کو شہر کے مختلف حصوں تک جانے کی اجازت دی اور ہمارے لیے بند راستے کھولے گئے۔ جب میں نے ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اس علاقے میں ان کا پولنگ سٹیشن کون سا ہے تو انھوں نے قدرے سخت لہجے میں کہا ‘کون سا پولنگ سٹیشن؟ ہم یہاں کوئی پولنگ سٹیشن نہیں بننے دیں گے۔ نہ یہاں پولنگ سٹیشن بنے گا نہ کوئی ووٹ ڈالے گا۔’ انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا ‘اگر ایک بھی پولنگ سٹیشن بنا تو ان (حکومت) کے پاس بہانہ ہوگا کہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور چہرہ چھپائے شخص نے کہا ‘ہمارے مطالبات ماننے کے بجائے ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ وہ لوگ بھی مر رہے ہیں جن کا احتجاج یا ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں۔’

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے