پشاور (مانند میڈیا)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت مسائل کا حل چاہتی ہے تو آئندہ سات دنوں کے دوران افہام و تفہیم کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے ، تاہم پاکستان تحریک انصاف کا چار اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی کال دینے سے پہلے ہی مذاکرات کی بات کی تھی، لیکن اس وقت حکومت نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اب احتجاج کے قریب آ کر مذاکرات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چار اکتوبر صرف شروعات ہے اور اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس دفعہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے’ اور واپسی کا فیصلہ حکومت کے مستقبل سے جڑا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی کمیٹی نے لانگ مارچ کے آغاز میں تاخیر کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت کیا تھا تاکہ حکومت کو معاملات حل کرنے کا موقع دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف اب بھی مسائل کے سیاسی حل کی خواہاں ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران انھوں نے تمام قانونی راستے اختیار کیے ، عدالتوں سے رجوع کیا اور کوشش کی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہو، لیکن ان کی کوئی بات نہیں سنی گئی۔ انھوں نے کہا کہ اب حکومت کی جانب سے رابطے کر کے احتجاج ملتوی کرنے کا کہا جا رہا ہے ، حالانکہ گذشتہ نو ماہ کے دوران ان کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے لیے گاڑیوں اور بڑی تعداد میں موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے اور اگر کسی قسم کی ‘مہم جوئی’ کی گئی تو عوام 24 گھنٹوں کی کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر انھیں عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل قرار دیا گیا تو ان کا متبادل عمران خان خود طے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ‘نااہلی کی صورت میں میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا’ اور اگر انھیں ہٹایا گیا تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر وہ تحریک انصاف کے مؤقف کے قریب آتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان بالآخر ان کی ‘پچ’ پر آئیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ بیان منصوبہ بندی کے تحت دیا گیا اور اس سے ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ مل رہا ہے۔ انھوں نے وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے دور میں کئی بجٹ پیش کیے جا چکے ہیں لیکن قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی ان کے مقصد اور نظریے کی راہ میں رکاوٹ بنی تو وہ یہ عہدہ چھوڑنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، ‘میں ٹیپو سلطان بننا پسند کروں گا۔’

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے