جمرود(مانند نیوز)پشاور اور ضلع خیبر کے مابین میفی گریفتھ حدبندی پرعمل درآمد کرکے ترقیاتی کام شروع کئے جائے۔ کھٹیاخیل عمائدین جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قوم کوکی خیل تپہ کھٹیاخیل کے عمائدین حاجی برکت ایڈوکیٹ، افراسیاب آفریدی و دیگر ساتھیوں سمیت کہا ہے کہ ہم ضلع خیبر میں ترقیاتی کاموں کے مخالف نہیں ہیں البتہ ترقیاتی کاموں کو شروع کرنے سے پہلے پشاور اور ضلع خیبر کے مابین 1912میں ہونیوالی میفی گریفتھ حدبندی پر عملددرآمد کو یقینی بنائی جائے تاکہ ہمیں اپنی ملکیتی زمین کا صحیح اندازہ ہوسکے۔ انھوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے 2013کے آخر میں قرار دیا تھا کہ حدبندی پر عمل درآمد کو یقینی بنائی جائے لیکن سول بیوروکریسی نے ہماری قوم کو آپس میں لڑوانے کے لئے گروپ بندی بنا کر مسئلہ کو پیچیدہ بنادیا۔جبکہ عدالت نے انتظامیہ کو فیصلے کوعملی جامہ پہنانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کئے تھے لیکن انتظامیہ میں اس مسئلے کو حل کرنے میں تاحال ناکام ہوچکے ہیں اس کی ساری زمہ داری انتظامیہ کو جاتی ہے۔بیوروکریسی ہمارے حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے کی کوششیں کررہی ہیں اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے مسائل پیدا کررہے ہیں۔جس کی قوم کوکی خیل مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پیرکے روز حدبندی کے حوالے سے قومی جرگہ بھلایا گیا ہے جب تک قوم کوکی خیل فیصلہ نہیں کرتے تب تک حکومت نادرن بائی پاس کے حوالے سے فیصلہ سے گریز کریں۔