پشاور (مانند نیوز)لائیو سٹاک سیکٹر پر٪ 18 ٹیکس لائیو سٹاک کواپریٹو سوسائٹی خیبر پختونخوا کا عدالت جانے کا فیصلہ، غریب عوام پر بوجھ بنے گا۔ بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ اس ٹیکس کی وجہ سے دودھ، گوشت، مرغی، انڈے اور ڈیری پروڈکٹس مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ بچوں کے دودھ پر ٪18 ٹیکس سمجھ سے بالاتر ہے۔ ٹیکس واپس لیا جائے ورنہ بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا۔ فارمرز کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ آصف خان اعوان صدر لائو سٹاک فارمرز ویلفیئر ایسوسییشن اینڈ کواپریٹو سوسائٹی کے پی نے وفاقی حکومت کا ڈیری پروڈکٹس پر ٪18 ٹیکس مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ بچوں کی دودھ اور دیگر ڈیری اشیاء پر ٪18 ٹیکس غریب عوام کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو تمام پاکستان کی تنظیمیں اور ایسوسییشنز کو اکٹھا کر کے اسلام اباد کی طرف مارچ کیا جائے گا ۔اس ظالمانہ فیصلے سے دودھ، گوشت، مرغیاں، انڈے اور دیگر ڈیری پروڈکٹس مہنگی ہو چکی ہیں۔ حکومت ہوش کے ناخن لے ورنہ حالات قابو سے باہر ہوں گے۔ عوام پہلے سے پریشانی کی حالت میں ہے اور ڈیری سیکٹر ختم ہونے کے قریب ہے۔ وفاقی بجٹ میں حکومت نے بچی کچی کثر نکال لی ہے۔ آصف اعوان نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ ڈیری ٹیکس واپس لیا جائے ورنہ حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔۔۔