ہنگو(مانند نیوز ) غیر قانونی طریقے اختیار کر کے دوسرے ممالک میں انٹری سنگین جرم ہے،لمحہ فکریہ ہے کہ نوجوان نسل درخشان مستقبل کے خواب سجائے،غیر قانونی طریقے سے دوسرے ممالک جاتے ہیں,غیر قانونی دوسرے ممالک میں جانے کا عمل پر خطر اور پچیدہ ہے,انسانی سمگلنگ کے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی اس غیر قانونی دھندے کو ختم کر سکتی ہے،دستاویزات اور لیگل پراسس ہی آپ کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے ان خیالات کا اظہار مائی برینٹ ریسورس سنٹر پشاور کے نمائیندے حسین ابدالی نے کوہاٹ ڈویثزن میں غیر قانونی انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی انداز میں سرحد کراس کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کے متعلق عوامی آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایچ آر ایس پی کے شہر اہتمام مایگرنٹ ریسورس سنٹر خیبر پختونخوا نے عوامی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔جس میں کوہاٹ،ہنگو،اورکزئی اور کرم کے اضلاع سے نوجوانوں اور سماجی تنظیموں سے وابسطہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس میں دستاویزات کے باوجود سرحد پار کرنے اور انسانی سمگلنگ کے واقعات کے نقصانات اور اس عمل کے دوران درپش خطرات کے متعلق شرکا کو آگاہ گیا گیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مایگرنٹ ریسورس سینٹر کے کوآرڈینیٹر حسن ابدالی نے کہا کہ بیرون ممالک ہجرت یا وہاں جانے کا مقصد بہتر مستقبل اورا چھی ملازمت کا حصول ہوتا ہے اور دوسرے ممالک جانے کے لیگل طریقہ کار،وہقں ملازمت کا حصول اور قیام و طعام سمیت ان ممالک میں مستقل سکونت کے لیے لیگل اقدامات کے متعلق جانکاری ہونا اشد ضروری ہے اور اس سیمینار کا مقصد بھی یہی ہے کہ ان تمام امور کے متعلق نوجوان نسل کو آگاہی دی جائے۔حسین ابدالی نے کہا کہ کم خرچے کا لالچ دیکر پرکشش ملازمتوں کا جھانسہ دے کر انسانی سمگلر نوجوان نسل کو اپنے جھانسے میں لے آتے ہیں اور ایسے نوجوانوں کو حادثات,قید و بند اور بعض اوقات ڈی پورٹ اور جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور ایسے دلخراش واقعات روانہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ایچ آر ایس پی کے ایم ڈی ناصر اکبر اورکزئی،عصمت اورکزئی اور خالد خان نے بھی سیمینار اور ورکشاپ سے خطاب کیا اور واضح کیا کہ ایسے غیر قانونی ذرائع کے استعمال سے مستقل ہجرت یا دوسرے ممالک جانے کے دوران مکمل اجتناب کیا جائے کیونکہ غیر قانونی طریقے سے جو باہر جانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ان کو مسلسل خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیشہ لیگل پراسس کو اپنایا جائے۔ناصر اکبر اور دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف پوری قوت سے کاروائی کی جائے جو معصوم نوجوانوں کو درخشاں مستقبل کا جھانسا دیکر ان کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔