ملاکنڈ (مانند نیوز)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ملاکنڈ محب اللہ خان نے تاجر برادری سے کہا ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری،ذخیرہ اندوزوں،ملاوٹ اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے سے اجتناب کریں اور عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کو انتظامیہ کی جانب سے مقررہ کردہ نرخنامے کے مطابق وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنائیں بصورت دیگر سرکاری نرخنامے سے تجاوز کرنے پر متعلقہ دوکاندار کے خلاف فوڈ ایکٹ کے تحت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ضلعی سیکریٹریٹ بٹ خیلہ کے کمیٹی روم میں ضلعی پرائس ریویو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ز،تاجر برادری کے نمائندگان،انجمن صارفین کے نمائندے بھی موجود تھے۔اجلاس میں ضلع بھر میں روزمرہ اشیائے خوراکی کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کا موازنہ نزدیکی اضلاع سوات اور دیر لوئر میں مقرر کردہ قیمتوں کے ساتھ کیا گیا جس کی روشنی میں مندرجہ ذیل اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر کی گئی جن میں بڑا گوشت فی کلو 750 روپے،چھوٹا گوشت فی کلو 1600 روپے،چاول کائنات 1 نمبر 300 روپے کلو جبکہ کائنات 2 نمبر 280 روپے کلو مقرر کیا گیا ہے۔چنا سفید 9 ایم ایم ترکی 360 روپے کلو،8 ایم ایم 320 روپے کلو،دال ماش 1 نمبر 580 روپے کلو، دال ماش 2 نمبر 530 روپے کلو،لوبیا 1 نمبر 490 روپے کلو، چائے پتی موننگافی کلو 1650 روپے،مکس مٹھائی فی کلو اے کلاس700 روپے جبکہ بسکٹ اے کلاس فی کلو 700 روپے پر دستیاب ہوگی۔اسی طرح تندوری روٹی 140 گرام 20 روپے اور 280 گرام 40 روپے میں دستیاب ہوگی جبکہ دہی کی پرانی قیمت برقرار رکھی گئی اور دودھ کی نئی قیمت 180 روپے کلو مقرر کی گئی۔ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر نے انتظامیہ افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام اور نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدگی سے روزانہ کی بنیاد پر دورے کرکے روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا معائنہ کریں اور نرخنامہ نہ رکھنے اور اشیاء خوردونوش کی مقررہ کردہ قیمتوں سے زیادہ قیمتیں وصول کرنے والے دوکانداروں اور قصائیوں کے خلاف کاروائی کریں۔