شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ میں بیشتر سرکاری سکول کاروباری مراکز میں تبدیل، سکولوں میں سٹیشنری سامان کا پنسل،بال پن،مارکر ز اور اب نوٹس اور پریکٹیکلز بھی باآسانی دستیاب ہیں۔ متعلقہ ہیڈ ماسٹر اور دیگر اساتذہ کی ملی بھگت سے طلبہ سے پہلے سٹوڈنٹ کارڈ کے عوض پیسے بٹورے جا رہے تھے اب باقاعدہ طور پر سرکاری سکول کاروباری مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔جہاں سکول میں استعمال ہونے والی اسٹیشنری مختلف مضمونوں کے نوٹس اور پریکٹیکل بیچنے کا سلسلہ جاری ہیں،یہ سلسلہ پہلے صرف ہیڈ کوارٹر کے سکولوں میں ہوتا تھا جہاں اساتذہ کے لیے یہ یہ موقف واضح کرنا کوئی بڑا مشکل نہ تھا اور وہ کہتے تھے کہ اسکولوں میں مختلف پروگرام ہوتے ہیں جس میں انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اعلی افسران شرکت کرتے ہیں جس کے خرچے اسی چیزوں سے نکالی جاتی ہیں سرکاری سکولوں میں پہلے طور پر کاروبار اس وقت شروع ہوا کہ سکولوں کی سٹوڈنٹس بیج پر لازمی کیا گیا کہ اس کے یونیفارم پر متعلقہ سکول کا لوگو اور کیپ لازمی ہوگا اس وقت مختلف اساتذہ نے دکان داروں سے بات کی اور سستے داموں یہ چیزیں لے کر طلبہ پر من مانی ریٹ پر بھیج دی اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے دوسرا کاروبار سٹوڈنٹ کارڈ کی عو ض شروع ہوا جو 20 روپے کا کارڈ اس وقت بنتا تھا وہ ہوں سکولوں میں 60 اور 80 روپے کا بھیجا جاتا تھا جو تقریبا آج کل 200 روپے کے قریب سکولوں میں دیا جاتا ہے اور پرنٹنگ پریس والے یہی کارڈ 35 سے 40 روپے میں بنواتے ہیں جبکہ 9اور 10 کلاسز کے لیے ان اساتذہ کرام نے پریکٹیکل بھی طلباء پر بیچناشروع کیے اور امتحان کے دنوں ان بچوں کو مائیکرو نوٹس بیچتے رہے جو ایک استاد کے لیے شرم کی بات ہے اور اب باقاعدہ طور پر مختلف مضمونوں کے نوٹس بھی مختلف سکولوں میں بیچے جا رہے ہیں اس حوالے سے محکمہ تعلیم اور انتظامیہ کے افسران موافقت رکھتے ہیں اور ان کو باقاعدہ طور پر ان سارے کاروباروں کا پتہ ہونے کے باوجود وہ ہاتھ ڈالنے کے بجائے خاموشی اختیار کر چکے ہیں۔ شانگلہ جیسے دور و افتادہ علاقوں میں ایسی چیز ہونا مشکل اس لیے نہیں ہے کہ یہاں کے بشتر افسران مقامی ہیں اور وہ ہر چیز سے واقفیت رکھتے ہیں تا ہم وہ اس چیز کے اوپر ہاتھ ڈالنے سے گریزہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ اساتذہ اس پر باری نہ ہو اور اس کی تبدیلی کی باہر اضلا ع میں نہ کروائیں اساتذہ کرام باقاعدہ طور پر متعلقہ پرنسپل کے ساتھ مل کر مختلف کلاسز میں نوٹس بھجوانے اور اکثر اوقات مطلقہ دکانیں دکھانے ایک ہمارے نمائندے نے گورنمنٹ سکول کے ایک طالب علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پرنسپل صاحب نے باقاعدہ طور پر ایک لسٹ بنوائی ہے جس میں اردو اور دیگر مضامین کے نوٹس دینے کا کہا گیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ فلاں دکان سے یہ نوٹ بھی ملتی ہے مگر ہم اپ کو یہ یہاں دلوا سکتے ہیں۔ تدریسی عمل کرنے والے بیشتر اساتذہ اور ماہر تعلیمات ان چیزوں کو سخت نظر سے دیکھتے ہیں اور ایسے اساتذہ کرام پر وہ سخت نالہ اور لعنت بیچتے ہیں کہ وہ اپنے ہی طلبا جو اس کے بچے ہیں کے ساتھ دکانداری کرتے ہیں شانگلہ ضلع بر کے بشتر سکولوں میں یہ کاروبار گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہیں مگر کوئی بھی افسر یا انتظامی اہل کار کاروائی کرنے میں ناکام نظر اتا ہے کیونکہ یہ افسران صرف بازاروں میں غریب ٹماٹر بیچنے والے دکاندار پر ہاوی ہیں۔۔