اسلام آباد (مانند نیوز)سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا کیس امریکی تاریخ کے بدنام ترین مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ جیفری ایپسٹین کی زندگی، جرائم اور موت آج بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے الزامات میں سزا پانے والے جیفری ایپسٹین کو اپنی ساتھی گھسلین میکسویل کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

جیفری ایپسٹین 10 اگست 2019ء کو نیو یارک سٹی کی جیل میں اپنے سیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ اس وقت حکام نے ان کی موت کو بظاہر خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اس واقعے کے کئی پہلوؤں پر آج بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

سزا یافتہ جنسی مجرم ایپسٹین کی فائلز میں نام آنے پر انوراگ کشیپ نے خاموشی توڑ دی

اب امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں ایک نئی تفصیل سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین کی لاش ملنے سے کچھ دیر پہلے جیل کے ایک گارڈ نے اس کے بارے میں انٹرنیٹ (گوگل) پر تلاش کیا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق جیل افسر تووا نول نے مقامی وقت کے مطابق صبح 5:42 بجے اور پھر 5:52 بجے ’جیل میں ایپسٹین پر تازہ ترین‘ (latest on Epstein in jail) کے الفاظ تلاش کیے۔

اس کے بعد تقریباً صبح 7 بجے جیفری ایپسٹین کی خودکشی کی خبر سامنے آئی، جیسا کہ ایف بی آئی کے ریکارڈ میں درج ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اس سرچ سے قبل گارڈ نے انٹرنیٹ پر فرنیچر سے متعلق معلومات بھی تلاش کی تھیں۔

یہ نئی تفصیلات ایک بار پھر اس مقدمے کے گرد موجود پُراسراریت اور سوالات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے