پشاور(مانند نیوز) فریش واٹر ایکشن نیٹ ورک ساؤتھ ایشیاء پاکستان کے تعاون سے اور آئی آر ایس پی کے زیرِ اہتمام مردان کے ایک مقامی ہال میں "سرکلر اکانومی کے اصولوں کو WASH پالیسیوں میں مؤثر انداز میں ضم کرنے، پانی کے دوبارہ استعمال، فضلے سے توانائی پیدا کرنے اور پائیدار صفائی و نکاسیٔ آب کے جدید طریقہ کار کو فروغ دینے” کے موضوع پر ایک جامع تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین، سماجی کارکنوں، نوجوانوں، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے معروف ماہر ٹرینر محمد یوسف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے پانی کے وسائل کا دانشمندانہ استعمال، گیلی زمینوں کی بحالی، بارش کے پانی کو محفوظ کر کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال میں لانا، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور ماحول دوست صفائی کے نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکلر اکانومی کے اصولوں کو قومی اور صوبائی WASH پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے تو نہ صرف پانی کے وسائل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کا دوبارہ استعمال، گندے پانی کی مناسب صفائی، فضلے سے توانائی پیدا کرنے کی جدید ٹیکنالوجیز اور پائیدار نکاسیٔ آب کے نظام مستقبل کی ضروریات ہیں۔ ان اقدامات سے قدرتی وسائل پر دباؤ کم ہوگا، شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کی صورتحال بہتر ہوگی، صحتِ عامہ کے مسائل میں کمی آئے گی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ورکشاپ سے آئی آر ایس پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہ ناصر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے شعبے میں مؤثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، نوجوانوں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے تاکہ پائیدار اور ماحول دوست ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔تقریب سے محمد اسماعیل، عمران خٹک، نوشین سردار، لبنیٰ اور کرن نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پانی کے تحفظ، صفائی کے جدید نظام، فضلے کے مؤثر انتظام، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، آبی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر اکانومی کا تصور وسائل کے مؤثر استعمال، فضلے میں کمی اور قدرتی ماحول کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جس سے معاشی ترقی اور ماحولیاتی استحکام کو ایک ساتھ فروغ دیا جا سکتا ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو مختلف عملی سرگرمیوں، گروپ مباحثوں اور سوال و جواب کے سیشن کے ذریعے پانی کے پائیدار انتظام، WASH پالیسیوں، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، ماحول دوست صفائی کے نظام، بارش کے پانی کے ذخیرے، گندے پانی کے محفوظ استعمال اور فضلے سے توانائی پیدا کرنے کے جدید طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ ماہرین نے شرکاء کو بتایا کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اختیار کیے جانے والے چھوٹے اقدامات بھی ماحول کے تحفظ اور پانی کے بحران پر قابو پانے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ورکشاپ میں مرد و خواتین، طلبہ و طالبات، نوجوانوں، سماجی کارکنوں، کمیونٹی نمائندوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پانی کے تحفظ، صفائی و حفظانِ صحت، ماحول دوست طرزِ زندگی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے فعال کردار ادا کریں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور پائیدار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔