اسلام آباد (مانند نیوز) بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت اور اداکار ہریتک روشن کے درمیان برسوں پرانا تنازع ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا۔

تنازع اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب ایک مصنف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ دنیا کو ہریتک روشن سے معذرت کرنی چاہیے۔اس پر ہریتک روشن نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ صرف کسی ایک فریق کو درست یا غلط قرار دینا معاشرے کا بڑا مسئلہ ہے، میں مکمل حقائق سامنے آنے کے بعد ہی رائے قائم کرنا پسند کرتا ہوں۔

سوشل میڈیا صارفین نے ہریتک کے اس بیان کو کنگنا رناوت کے ان کے پرانے تنازع کے ساتھ جوڑ دیا۔

تنازع شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی کنگنا رناوت نے انسٹاگرام اسٹوریز پر ہریتک کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہریتک اپنی حالیہ گرل فرینڈ صبا آزاد کے ساتھ خوش ہیں تاہم انہیں چاہیے کہ میرے نام پر تنازع اور مجھے ہراساں کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں، نہ کہ ایسے بیانات دیں جو تنازع کو دوبارہ ہوا دیں۔

اداکارہ نے کہا کہ ہریتک غیر ضروری تبصرے بند کریں تاکہ ان کی گرل فرینڈ بھی شرمندگی سے بچ سکیں۔

واضح رہے کہ یہ نئی بحث اس وقت شروع ہوئی تھی جب کنگنا رناوت کے سی جے پی کے زیرِ انتظام طلبہ کے احتجاج سے متعلق بیان پر سیاسی جماعت کے ترجمان سورَو داس نے طنزیہ انداز میں دعویٰ کیا تھا میرا خیال ہے کہ کنگنا شاید مجھ پر اس لیے تنقید کر رہی ہیں کیونکہ میری شکل ہریتک روشن سے ملتی ہے۔ 

اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور پرانے تنازع پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔

اسی دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ ہریتک روشن نے کنگنا پر طنز کرنے والی ایک میم کو پسند بھی کیا ہے۔

یاد رہے کہ ہریتک روشن اور کنگنا رناوت کے درمیان تنازع پہلی بار 2016ء میں منظرِ عام پر آیا تھا جب کنگنا نے ایک انٹرویو میں ہریتک کو اپنا ’سابق بوائے فرینڈ‘ قرار دیا تھا۔

 جس کے بعد دونوں کے درمیان قانونی نوٹس، متضاد بیانات اور ای میلز سے متعلق الزامات کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو آج بھی وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر دوبارہ موضوعِ بحث بنتا رہتا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے