تخت بھائی (مانند نیوز ڈیسک) تخت بھائی مہنگائی کا جن بے قابوہوکر تحصیل تخت بھائی انتظامیہ سرکاری نرخنامہ کی ایمپلی منٹیشن میں بری طرح ناکام  ہوگئی ہے،  تحصیل انتظامیہ صرف اپنی گاگردگی صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے  عام بازار کے نرخ پر سستا بازار میں بھی اشیا خوردونوش سے عوام نے سرجوڑ دی،خود ساختہ مہنگائی نے شہریوں کو شدید پریشان کردیا ہے ڈپٹی کمشنر مردان کے طرف سے جاری کردہ سرکاری نرخناموں  کو تحصیل تخت بھائی میں ایمپلی منٹیشن میں بری طرح ناکام ہو گئی۔ منافع خور تاجر تخت بھائی میں سرگرم ہوگئے ہے  جو سرکاری نرخوں کے بجائے اپنے نرخ پر اشیاء خوردنوش بھیج رہے ہیں جس پر تحصیل انتظامیہ خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں۔ تخت بھائی میں سرکاری نرخنامے کے مطابق کباب کے ریٹ 400 روپے ہے جبکہ ہوٹلز والے 520 پر فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح دودھ 110 روپے ہے اور دکاندار  120 اور 130 روپے پر فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح گوشت، مٹھائی اور دوسرے اشیاء خوردنوش بھی اسی طرح سرکاری نرخنامے کے بجائے تاجر اپنے  نرخنامے پر فروخت کر رہے ہیں۔ جس پر تحصیل انتظامیہ خاموش ہے حکومت نے ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں تحصیل تخت بھائی کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے سستا بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورزقائم کیں ہیں جوکہ برائے نام ہیں۔  جس میں درجنوں شہری حکومت اور مقامی انتظامیہ کے خلاف پھوٹ پڑے اورکہا کہ ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکہ دی جا رہی ہے اوریہ عوام کے ساتھ مزاق ہے۔ لوگوں نے کہا کہ سستا بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر لوگوں کو ذلیل و خوار کیا جارہا ہے جس کے لئے گھنٹوں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہوکرانتظارکرنا ہوتا ہے۔شہریوں نے صوبائی حکومت اور چیف سیکرٹری سے پر زور مطالبہ کیا ہیں کہ یا تو موجودہ سستابازار کو فعال بنایا جائے یا ہر چوک کے قریب موزون جگہ پر اسی طرح کے پوائنٹ بنایاجائے اور اگر اسی طرح نہیں ہوسکتا ہے تو خدارا حکومت ریلیف کی بات نہ کریں۔ کہ  حکومت عوام کو ریلیف دے رہا ہے۔ کہاں ہے ریلیف اور کیسا ریلیف؟  بہتر یہ ہوگا کہ موجودہ سستا بازار کو ختم کیا جائے کیونکہ تحصیل انتظامیہ نے سستا بازار کو عوام کے  ریلیف کیلئے بنایا ہے نہ کہ آٹے اور چینی کے لئے لوگ گھنٹوں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر  ذلیل اورخوار ہوتے ہے تو آٹا ختم ہو جاتے ہے  غریب شہری واپس اپنے گھروں کو افسردہ چلے جاتے ہے شہریوں نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم غریب مزدور کار لوگ ہیں اپنے بچوں کیلئے رزق کمائیں یا سارا دن سستا بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورز میں آٹا چینی کیلئے قطاروں میں کھڑے رہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل انتظامیہ کی ناکام کارکردگی سے شہری ناخوش  ہیں اور ان کی کارکردگی اعلیٰ حکام کو دکھانے صرف فوٹو سیشن اور جرمانوں تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں پہنچا ہے خود ساختہ مہنگائی سے شہری پریشان ہیں تاہم مقامی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے   شہریوں نے مذید کہا کہ اگر حکومت حقیقت میں عوام کو ریلیف دینا ہے تو سستا بازاروں،  مارکیٹوں اور یوٹیلٹی اسٹوروں کے اوپر سخت چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے تاکہ دکاندار سرکاری ریٹ پر اشیاء خوردنوش فروخت کریں۔شہری  کاکہنا تھا کہ  انتظامیہ اپنے اے سی والے کمرے سے نکل کر بازاروں کا رخ کرے۔اب دیکھنا یہ ہیں کہ ڈی سی مردان عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہو گا کہ نہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے