الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شانگلہ پولیس کی چار افراد کے قتل میں ملوث 2سوتیلے بھائیوں سمیت 7 اجرتی قاتلوں کی گرفتاری میں کامیابی،درندوں نے گھر میں گھس کر باپ اور ان کے تین بیٹوں کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔سوتیلے بھائیوں نے جائیداد کے تنازعہ پر اجرتی قاتلوں کی مدد سے ان چار افراد کو گزشتہ ہفتے اور اتوار کے درمیانی شب قتل کیا تھا۔شانگلہ پولیس کی مسلسل جدوجہد،چھاپوں،ناکہ بندیوں اور جدید ٹیکنالوجی کی مددسے ملزمان کی نشان دہی کی۔یاد رہے المناک سانحے پر پورے علاقے میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔گرفتاریوں کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ رحیم شاہ،ایس پی مزمل شاہ جدون، ڈی ایس پی پورن پرویزخان،ڈی ایس پی عطا اللہ خان،ایس ایچ اوعثمان علی نے دیگر پولیس حکام کے ہمراہ تھانہ الوچ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اور اتوار کے درمیانی شب تھانہ الوچ کے حدود کے علاقے بگیاڑ میں یہ واقع پیش آیا ہے جسمیں نامعلوم ملزمان نے گھرمیں گھس کر باپ اور اس کے تین بیٹوں کو گولی مارکرقتل کردیا۔پولیس تحقیقات کے بعد یہ تمام تر معاملہ مقتول گل زرین کا اپنیپہلی بیوی کے بیٹوں کیساتھ جائیداد پر تھا اور انھوں نے اجرتی قاتلوں کو اپنے باپ کو مارنے کا پانچ لاکھ کا معاوضہ دینا تھا جو کام ہونے کے بعد۔ جب اجرتی قاتل گھر میں داخل ہوئے تو انھوں نے گل زرین کو قتل کرنا تھا تاہم گھر میں موجود ان کے تین بیٹے اپنے باپ کو ان سے بچاتے ہوئے ان درندوں کے گولیوں کی زد میں آگئے اور باپ سمیت تین بھائیوں کو قتل کردیا گیا۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ اسی صبح اقبال حسین نامی شخص تھانہ الوچ رپورٹ کیلئے آیا اور کہا کہ بھائی پستول صاف کررہا تھا ور گولی لگنے سے وہ زخمی ہوا۔تفشیشی پولیس نے دونوں مقدمات کو یکجہہ کرکے مختلف پہلوؤں پر کام کیا اور زخمی اقبال حسین کے بھائیوں شیرعالم،جعفر،سیاب خان،حاجی نواب،عثمان غنی،گل نواب کو مشتبہ وقوعہ بگیاڑ میں تفشیش شروع کی جو صحیح نکلی اور وہ یہی اجرتی نکلے جبکہ ان کو بخت زمان،پہلوان نے اپنے باپ کو قتل کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ڈی پی او رحیم شاہ خان کا مزید کہنا تھا کہ مقتول گل زرین نے پہلے بیوی کے بچوں کو جائیداد سے محروم کرکے جائیداد میں حصہ نہیں دے رہے تھے جس پر وہ ان سے نالا تھے اور اپنے باپ کوقتل کرنے کیلئے اجرتی قاتلوں کیساتھ پانچ لاکھ روپے کا سودا کیا اور پیسے وقوعہ کے بعد اد اکرنے تھے۔دوران پولیس تفشیش ملزمان نے تمام واردات کو تسلیم کیا اورپولیس نے وقوعہ میں استعمال شدہ اسلحہ 2کلاشنکوف،1پنچ ضربی رائفل،4بارہ بور رائفل،3پستول،9چارجر اور کارتوس مختلف بور برآمد کیے۔قتل میں ملوث ان9ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ادھر مدعیان نے المناک واقع میں پولیس کی تفشیش کو سراہا اور اپنی مکمل تسلی کرنے کے بعد انھون نے بھی جملہ ملزمان پر عدالت میں دعیداری کی۔اسطرح ایک اندھے قتل مقدمے کو شانگلہ کے پولیس نے دن رات محنت کیساتھ ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتاری عمل میں لائی۔مقدمے میں مزید تفشیش جارہی ہیں۔عوامی حلقوں کی جانب سے شانگلہ پولیس کی کاروائی کو سراہتے ہوئے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کی ہیں۔۔