اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کورونا  ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے   پاک فوج  کو طلب کرتے ہوئے کہا ہے  کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں۔ ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی برائے کورونا کے اجلاس  کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں کوروناوائرس کے مریضوں کے لئے آکسیجن کی کمی ہو گئی ہے، ہسپتال بھرے ہوئے ہیں، کئی مریض ہسپتال جاتے ہی نہیں اور وہ سڑکوں پر مرجاتے ہیں، جس طرح بھارت میں کوروناوائرس کے حالات ہیں اس کے تناظر میں تمام پاکستانیوں کو اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اب ہم نے احتیاط نہ کی تو چند دنوں میں، ہفتے میں اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتے میں ہمارے وہ حالات ہونے والے ہیں۔ ہمارے ہسپتالوں کے اس وقت بھارت جیسے حالات اس لئے نہیں ہوئے کہ ایک سال پہلے ہم نے ہسپتالوں کو استعداد کار بڑھا دی تھی۔اگر ہم نے ہسپتالوں کی استعدادکار نہ بڑھائی ہوتی تو آج پاکستان میں بھی وہ حالات ہوتے جو آج بھارت میں ہیں۔ جس طرح پاکستان میں کوروناوائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس پر میں عوام سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ایس او پیز پر عمل کریں، اگر آپ ماسک پہنیں گے تو آپ کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اگر عوام اب سے عید تک ایس او پیز پر چلیں گے تو ہمیں وہ قدم نہ اٹھانے پڑیں جو بھارت کو اٹھانے پڑرہے ہیں،یعنی کہ شہروں کا لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔اگر ہمارے بھی وہ حالات ہو گئے جو کورونا کے ہیں تو پھر اس کوروناکوروکنے کے لئے  پھر ہمیں شہر بند کرنا پڑیں گے اور وہ ہم نہیں چاہتے کیونکہ دنیا کا تجربہ ہے کہ جب آپ لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو سب سے کمزور اور غریب طبقہ پس جاتا ہے، مجھے تو آج لوگ کہہ رہے ہیں لاک ڈاؤن کردیں لیکن یہ ہم اس لئے نہیں کررہے کہ جو بیچارے دیہاڑی دار ہیں، جو مزدور طبقہ ہے  جو کماتے ہیں تو بچے کھاتے ہیں وہ سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، اس لئے ہم رکے ہوئے ہیں لیکن ہم کتنی دیر  تک لاک ڈاؤن سے رک سکتے ہیں  یہ عوام کے اوپر منحصر ہے۔ اگر عوام آج سے اس طرح احتیاط کریں جس طرح ایک سال پہلے کی تھی، گزشتہ بر س رمضان میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے مسجدوں کو بند نہیں کیا تھا، مجھے بڑا فخر تھا جس طرح ہمارے علماء نے ہمارے لوگوں کو بتایا، جس طرح امام مسجد نے  لوگوں سے ایس اوپیز پر عملدرآمد کروایا، پاکستان بچ گیا اور مسجدوں سے کوئی کورونانہیں پھیلا، آج اگر اسی طرح احتیاط کریں اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کوئی اس وقت احتیاط نہیں کررہا، کوئی ایس اوپیز پر نہیں چل رہا، مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے  کہ بہت کم لوگ چل رہے ہیں اس سے بہت بڑے خطرے کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ہمیں لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ ہماری معیشت جو اللہ کے کرم سے اوپر جارہی ہے اس کو نقصان پہنچے گا، دوکانداروں کو اور فیکٹریوں کو نقصان پہنچے گا  لیکن سب سے  زیادہ نقصان بیچارے غریب لوگوں کو پہنچے گا۔  میں نے فوج کو بھی کہا ہوا ہے کہ وہ بھی اب دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کوروناایس اوپیز پر عملدرآمد کے لئے سڑکوں پر نکلیں۔ ہم اب تک لوگوں کو کہتے رہے ہیں کہ ایس اوپیز پر عمل کریں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ نہ لوگوں کے اندر خوف ہے اور نہ وہ احتیاط کررہے ہیں اور اسی کی وجہ سے یہ تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ ماسک پہن لیں گے تو آدھا مسئلہ ادھر حل ہو جاتا ہے۔ ایس او پیز پر عملدآمد کے لئے فوج ہماری پولیس کی مدد کرے گی۔ جب تک قوم مل کر اس وباء کا مقابلہ نہیں کرے گی ہم اس سے نہیں جیت سکتے۔ گزشتہ برس کے مقابلہ میں اب ایس اوپیز پر شاید ہی کوئی عمل کررہا ہے لہذا ہم اب سختی کریں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر لوگ ایس او پیز پر چلیں گے تو پھر جو سب سے خوفناک چیز  شہروں کا لاک ڈاؤن ہے وہ نہیں کرنا پڑے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ترقی، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات اسد عمر کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے شہروں کے لاک ڈاؤن کے حوالہ سے آئندہ چند روز کے اندر صوبوں کے ساتھ مل  کر پورا منصوبہ بنایا جائے گا کہ کس طرح یہ کام کرنا ہے اور جو لوگوں کو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ان سے لوگوں کو بچانے کے  لئے کیا اقدامات کرنے کی ضروت ہے۔ تمام اضلاع جہاں پر کوروناوائر س کے مثبت کیسز آنے کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہے وہاں پر نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے عید تک بند کردیئے جائیں گے۔ بازار چھ بجے تک کھلیں گے اس کے بعد وہ چیزیں    جو ضروری ہیں ان کے کاروبارکی اجازت ہو گی اور اس کی باقاعدہ فہرست دے دی جائے گی۔ ہوٹلو ں کے اندر کھانا کھانے پر پہلے ہی پابندی تھی اب ہوٹلوں کے باہر بیٹھ کر کھانا کھانے پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے تاہم کھانے گھر لے جانے کی سہولت دستیا ب ہو گی۔ جمز پر پابندی لگائی جارہی ہے۔دفتری اوقات کار کو دو بجے تک محدودکیا جارہا ہے۔   مرد اور خواتین حضرات سے گزارش ہے کہ وہ عید کی شاپنگ کریں لیکن دن کے اوقات میں کریں اور افطار کے بعد بازار نہیں کھلے ہوں گے۔ کسی بھی دفتر میں 50فیصد سے زائد ملازمین کو نہ بلایا جائے۔ ہم ملک میں آکسیجن کی 90فیصد پیداواری صلاحیت کے اوپر جاچکے ہیں اور تقریباً 80فیصدآکسیجن  صحت  کے لئے استعمال ہورہی ہے اور اس میں کورونابہت بڑا حصہ ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے