جمرود (مانند نیوز ڈیسک) قبائلستان تحفظ مومنٹ کے صدر ابوسفیان کا ملک حاجی محمد حسین آفریدی، سردار اصغر،حاجی داود شاہ اور دیگر کے ہمراہ جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں،فاٹا انضمام کا فیصلہ جلد بازی میں قبائلی عوام سے رائے لئے بغیر کیا گیا ہے۔24 جولائی کو وزیرستان مکین کے علاقے میں گرینڈ کا جرگہ کا انعقاد کیا گیا تھا جسکا مقصد قبائلستان کے حوالے سے گرینڈ جرگہ ترتیب دینا تھا۔قبائلستان کے حوالے سے گرینڈ جرگہ تشکیل دے دیا گیا ہے۔31 مئی 2018 کو ایک ایسا فیصلہ کیا گیا فاٹا کے حوالے سے کہ جس میں فاٹا کو ایک غریب صوبے کے ساتھ ضم کردیا گیا اور قبائلی عوام کی محرومیاں ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی۔قبائلستان تحفظ مومنٹ اور فاٹا انضمام مخالف ہم خیال تحریکوں کے مشران نے فاٹا انضمام کے کالے فیصلے کے خلاف پاکستان سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا ہے جس کی ہائرنگ ہوچکی ہے جبکہ سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔آرٹیکل 247 کے تحت ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں جداگانہ حیثیت دی جائے۔فاٹا انضمام کا فیصلہ جس طریقے سے بھی قبائلی عوام پر مسلط کیا گیا ہے یہ مکمل طور پر ظلم اور زیادتی ہے۔وزیرستان مکین میں منعقدہ جرگے میں تمام قبائلیستان تحفظ مومنٹ کے مشران نے متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے مستقبل کے معاملات کے لئے ملک محمد حسین آفریدی کو چیئرمین مقرر کردیا ہے جو کہ واقداران وقت کے ساتھ بات چیت کرینگے۔قبائلستان تحفظ مومنٹ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال،فاٹا انضمام کے بعد پیدا شدہ مسائل کے حوالے سے یوتھ جرگہ کا انعقاد کرنے جارہی ہے۔ افغانستان میں پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار ہے کیونکہ جب پڑوس میں حالات خراب ہونگے تو اسکے اثرات بارڈر کے اس پار قبائلی علاقوں پر مرتب ہونگے۔ہم افغان غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں کیونکہ اس پار بھی پختون آباد ہے اور اس پار بھی پختون آباد ہے خطے میں بدامنی ہے اور بدامنی کے سدباب کے لئے قبائلستان جرگہ اہم کردار ادا کریگی۔لوئے جرگے کے لئے قبائلی ایجنسیوں اور ایف آر پر مشتمل علاقے سے نمائندگی لی جائیگی جس کے لئے 31 جولائی 2021 کو درہ آدم خیل میں ایک جرگہ ہوگا جس میں تمام مزکورہ علاقوں سے 20،20 مشران کے نام مانگے ہیں جو کہ مشر ملک حاجی محمد حسین آفریدی کے سربراہی میں حکام سے خطے کے مسائل کے حوالے سے ملاقاتیں کرینگے۔ہمارے مشران سے اختیار لیا گیا ہے،ہمارے کشر سے اختیار لیا گیا ہے اور اس کو واپس حاصل کرنے کے لئے قبائلی اضلاع کے مشران و کشران ملکر اپنا کردار ادا کرینگے۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں داخل کیس میں ابتک پیش کئے گئے دلائل کے مطابق فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط اور جلد بازی میں ہوا ہے۔ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے ہمیں انصاف ملے گا اور فاٹا کے عوام کو ان کے امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار ملے گا اور اس کے لئے قبائلی عوام کی جدوجہد جاری رہیگی۔