پشاور (مانند نیوز ڈیسک) ضلع مردان میں گھریلوتشدد، جنسی ہراسیت، زیادتی اورجبری مشقت کے شکارخواتین وبچوں کی مدد کیلئے آر آر این نے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغازکردیا۔اس سلسلے میں گزشتہ روز مردان میں آر آر این کی فوکل پرسن نصرت آراء کی زیر صدارات ایک اجلاس کا انعقاد ہوا، جس میں چوہدری نعیم، یوسف شاہ آریانی ایڈوکیٹ،سید عثمان ایڈوکیٹ،عامر شوکت ایڈوکیٹ،جاوید شاہ ایڈوکیٹ،وومن چیمبرز مردان کی صدر زاہدہ افتخار،سول سوسائٹی کے محمد شاہد خان، فہیمہ بی بی،ریخانہ شکیل، رفاقت بیگم، خائستہ رخمان، حسن حساس، عزیز بسمل، صائمہ امانت مسیح،ہریندردیوی ودیگر نے شرکت،اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے نصرت آرا نے کہا کہ خواتین کے مسائل کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں انہیں بے شمار چیلنجز درپیش ہیں جن کے حل کیلئے حکومتیں کام کر رہی ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ میرے نزدیک معاشرتی تبدیلی کیلئے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ حکومت، ادارے، این جی اوز یا کوئی شخص اکیلئے مسائل حل نہیں کر سکتا بلکہ ہم سب کو مل کر ایک سمت میں کام کرنا ہوگا۔ خواتین کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے اسمبلیوں نے موثر قانون سازی کی ہے مگراس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے لہذا عملدرآمد قانون ساز اداروں نے کروانا ہے جن کی تربیت کی ضرورت ہے۔ وراثت میں حق کاقانون موجود ہے مگر خواتین کو اس سے محروم رکھنے کیلئے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بھی خواتین کو ہر شعبے کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ پسند کی شادی کو بھی یہاں بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور خواتین کو ایسا کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔مختلف مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لہذا اس مسئلے پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔ ہراساں کرنے کے معاملے میں ملزم گرفتاری کے بعد ہی ضمانت پر رہا ہوجاتا ہے۔جب تک کہ مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی خواتین کو ہراساں کرنے کے کیسز نہ صرف جاری رہیں گے بلکہ ان میں اضافہ بھی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آر این این کمیٹی کے ممبران پولیس سمیت دیگر سرکاری محکموں کے افسران سے ملاقاتیں کرینگے اور خواتین کو تخفط یقینی بنانے کیلئے ضلع مردان کے تمام تحصیلوں میں کمیٹیاں قائم کرینگے۔