نوشہرہ (مانند نیوز ڈیسک) تھانہ نوشہرہ کینٹ پولیس موبائل کے ڈرائیور نے کپڑے کے تاجر سے ایک لاکھ روپے چھین لئے، تاجر کو لال کرتی پھاٹک پر روک کر اس سے ایک لاکھ روپے زبردستی چھینے جس پر کپڑے کے تاجر نے ڈی پی او کو درخواست دی، شنوائی نہ ہونے پر تاجر نے ڈی آئی جی اور آئی جی پی کو تحریری درخواست کردی، سیٹیزن پورٹل پر وزیراعظم سے بھی پولیس اہلکار کے خلاف کاروائی کی اپیل، تفصیلات کے مطابق کپڑے کے معروف تاجر پیر محمد نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، ڈی آئی جی اور ڈی پی او نوشہرہ کو دئے گئے تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ گزشتہ شب پاکستانی کپڑا لیکر آرھا تھا کہ لال کرتی پھاٹک پر تھانہ نوشہرہ کینٹ کے موبائل ڈرائیور عاصم نے روک کر گھنٹوں روکے رکھا کپڑے کو گاڑی سے اتارا اگر چہ پاکستانی تھا میرے ساتھ انتھائی بدتمیزی کی اور مجھ سے ایک لاکھ روپے چھین کر دھمکی دی کہ چلتے بنو ورنہ تمھارا یہ کپڑا بھی کسٹم والوں کے حوالے کردونگا، اس واقعے کے بعد میں نے متعلقہ ایس ایچ او سے فریاد کی بعدا ازاں ڈی پی او نوشہرہ سے تحریری درخواست کی جہاں میری درخواست ہی غائب ہوئی، درخواست گزار پیر محمد نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اور ڈی آئی جی مردان سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کے احکامات جاری کرکے مجھے انصاف دلائیں۔ ادھر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیر محمد نے بتایا کہ میں فیصل آباد سے پاکستان کپڑے کا کاروبار کرتا ہوں نوشہرہ کینٹ پولیس کو کپڑے کی لت ہے پاکستان اور غیر ملکی کپڑے کی پہچان کئے بغیر تاجران کو ذلیل کرنا معمول ہے انہوں نے کہاکہ تھانہ نوشہرہ کینٹ کے موبائل ڈرائیور عاصم تاجران سے کھلے عام بھتہ وصولیاں کررہا ہے انہوں نے کہاکہ میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے بھی اپیل کرتا ھوں کہ تاجروں کو تحفظ دیں انکا کہنا تھا کہ ھم نہ افغانستان نہ انڈیا اور نہ کسی اور ملک سے کپڑا لاتے ہیں بلکہ پاکستان کے شہروں فیصل آباد اور نوشہرہ میں کاروبار کرتے ہیں اگر پشاور نوشہرہ اور فیصل آباد میں تجارت غیرقانونی ہو تو پھر تو یہ کارخانہ بھی بند ہونے چاہئے۔