اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نواز شریف بننے کی کوشش نہ کرے، شیر کی کھال پہن لینے سے کوئی شیر نہیں بن جاتا۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ،10سال کی جدوجہد جمہوریت کے خلاف سازش سے عبارت ہے، ہم اور عوام عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔ ان خیالات کااظہار مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس کی اپیل کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ نیب نے میری ضمانت خارج کرنے کے لئے درخواست دائر کی ہے، میں یہ چاہتی ہوں کہ جس شخص نے میری ضمانت خارج کرنے کی نیب میں   درخواست لکھی ہے میں اپنے اس ہمدرد کو نیب میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ نیب میں میرا ہمدرد کون ہے اور قوم کو بھی وہ چہرہ دکھانا چاہتی ہوں کہ کس عقلمند نے وہ درخواست لکھی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ مریم ایسے عدالت میں آتی ہے، ایسے جاتی ہیں، یہ کھاتی ہیں، یہ پہنتی ہیں یہ ایسے سلام کرتی ہیں، یہ بات کرتی ہیں، میں نے جب اس درخواست کو پڑھا تو مجھے ایسے لگا جیسے بچے ڈر رہے ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ جس شخص نے وہ درخواست لکھی ہے اس کا چہرہ قوم کو دکھایا جانا چاہئے تاکہ پتہ چلے کہ اتنا ذہین اور سپر ذہین ا نسان کو ن ہے جو اپنی درخواست کے ذریعے پوری قوم کو یہ بتا رہا ہے کہ مریم نے جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جنرل فیض کے خلاف جو درخواست دائر کی ہے اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں اور اس کے جواب میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ مریم ایسے شواہد کو سامنے لا رہی ہے جو ان کے کیس کو اور پوری سازش کو ڈیمالش کرتاہے لہذا مریم کو جیل میں ڈالا جائے، میں چاہتی ہوں کہ اس کا چہرہ قوم کو دکھایا جائے تاکہ ہم اس کو 21نہیں 22توپوں کی سلامی پیش کریں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ میڈیا کو اور جو جو بھی اس درخواست دینے کے پیچھے ہیں ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اگر یہ مجھے ڈرانے کے لئے ہے تو آپ کو علم ہونا چاہئے کہ اللہ کا شکر ہے نہ میں آپ کی گرفتاری سے ڈرتی ہوں اور نہ آپ کے جعلی مقدمے سے ڈرتی ہوں، نہ آپ کے جعلی کیسز سے ڈرتی ہوں اور نہ میں نیب سے ڈرتی ہوں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ذریعے مجھے ڈرالیں گے تو یہ انکی بھول ہے، آپ میری ضمانت منسوخ کریں اور مجھے گرفتار کریں تا کہ دنیا کو پتہ چلے کہ آپ سچ سے کتنا ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ کو ایک نہ ایک دن سامنے آنا ہے، سچ کو آپ طاقت کے ذریعے کچھ دیر کے لئے دبا سکتے ہیں اور آخر کا ر سچ نے جیتنا ہے اور وہ دن دور نہیں بلکہ میاں محمد نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ میں نے اپنا مقدمہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا تو سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون جو  ایک آئینی اور منتخب وزیر اعظم کو جو اختیارات دیتا ہے اور جو آئینی حقوق حاصل ہیں اس میں کوئی دورائے نہیں ہے لیکن جس شخص کی یہاں بات ہورہی ہے، عمران خان کی، نہ وہ آئینی وزیر اعظم ہیں اور نہ وہ منتخب وزیر اعظم ہیں، بلکہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو نواز شریف کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر آج وزیر اعظم کی کرسی پر قابض ہے، اس کو قابض کہیں گے، اس کو سلیکٹڈ کہیں گے لیکن آپ نہ اس کو آئینی وزیر اعظم کہہ سکتے ہیں اور نہ منتخب وزیر اعظم کہہ سکتے ہیں، کیونکہ نہ ان کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے، نہ ان کے پاس عوام کا ووٹ ہے، نہ ان کی کوئی اخلاقی حیثیت ہے اور نہ ان کی کوئی آئینی حیثیت ہے،ہاں ایک شخص جو وزیر اعظم کی کرسی پر قابض ہے وہ بجائے یہ کہ وہ آئین اور قانون کے تحت معاملات کو چلاتا ہو، وہ جادو، ٹونا، جھاڑ، پھونک، حساب کتاب کے ذریعے ملک کو چلا رہا ہے،22کروڑ کے ملک کو وہ چلا رہا ہے اور جس ملک میں اہم ترین تقرریاں، میں ان تقرریوں کی بات کررہی ہوں جن کا پاکستان کی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے، جو شخص ملک کی اہم تقرریاں جادو، ٹونے سے کرتا ہو، بجائے وزیر اعظم کے جنات وہ تقرریاں کرتے ہوں، جنات وقت طے کرتے ہوں یا جس کو طوطا فال کہتے ہیں وہ نکال کرکرتے ہوں تو پھر اس ملک کا دنیا میں تماشا بننا جس طرح اب بنا ہے، اداروں کا تماشا بننا، پھر اس میں ہمارے لئے کوئی حیرانگی اور اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر ان کا اتنا ہی جادو، ٹونا کامیاب ہے اور حساب، کتاب کامیاب ہے، وہ جس کو جنتر منتر کہتے ہیں وہ کامیاب ہے تو وہ عوام کی بھلائی کے لئے استعمال کیوں نہیں ہوتا، وہ جو جنات کی مدد ہے یا جنتر، منتر ہے وہ صرف اہم ترین تقرریاں کرنے کے لئے ہی کیوں استعمال ہوتے ہیں، وہ اس چیز کے لئے استعمال کیوں نہیں ہوتے کہ عوام سے مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے، اگر وہ طریقہ کار اتنا ہی کامیاب ہے تو پھر آٹا سستا کرو، اس سے چینی سستی کرو، اس سے پیٹرول، ڈیزل سستا کرو اور اس سے اپنی کارکردگی کو بہتر بناؤ۔ ن لیگی نائب صدر نے کہا کہ یہ نہ اپنے آئینی اختیارات کے استعمال کا مسئلہ ہے، نہ یہ وزیر اعظم کے اختیارات کے استعمال کا مسئلہ ہے، نہ یہ کسی جمہوریت کا مسئلہ ہے، نہ یہ کسی جمہوری اصول کا مسئلہ ہے، نہ ہی یہ کوئی آئینی کردار کا مسئلہ ہے، یہ اپنی ذات اور حکومت کو چند دن اور مہلت دینے کا مسئلہ ہے، پوری قوم کو سمجھ نہیں آرہی کہ آپ پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں، پورا ملک اس وقت بند ہے، اداروں اور ملک کا تماشا بن چکا ہے، صرف اس لئے کہ ایک شخص کو آپ نے برقراررکھنا ہے چونکہ وہ آپ کی حکومت چلاتا ہے، وہ آپ کے مخالفین کے لئے اکھاڑ پچھاڑ کرتا ہے، سمجھ نہیں آرہی کہ ایسا کیا معاملہ درپیش آگیا ہے، کیا آپ نے قوم کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ان حرکات اورسکنات کا علم نہیں کہ ان کے پیچھے بات کیا ہے۔ ہم گزشتہ روز پڑھ رہے تھے اور آپ کہہ رہے تھے کہ وزیر اعظم کا آئینی حق ہوتا ہے، اختیار ہوتا ہے، آج آپ کو ووٹ کو عزت دو یاد آگئی  تو میں آپ کو یہ بتا دوں کہ آپ کو نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہئے نواز شریف جب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لے کر میدان میں آیا تھا تو وہ منتخب وزیر اعظم تھا، وہ آئینی وزیر اعظم تھا، وہ عوام کے ووٹ سے آیا تھا، وہ بہت لمبی جدوجہد طے کر کے آیا تھا، اس کی بہت بڑی آئینی جدوجہد تھی جو اس کی ذات کے لئے نہیں تھی، اس نے اپنی ذات اور اپنی حکومتوں کی قربانی دی  لیکن آئین کے لئے اور پاکستان کے عوام کے لئے اور وزیر اعظم کے آفس کی عزت کے لیے اس نے اپنی حکومتیں قربان کردیں، اس طرح کا سٹیٹس حاصل کرنے کے لئے، ووٹ کوعزت دو کا نعرہ لگانے کے لئے آپ کو جیلیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، آپ کو، میں ڈکٹیشن نہیں لوں گاکہنا پڑتا ہے اور پھر اس پر قائم رہنا پڑتا ہے، آپ کو اٹک قلعہ میں جانا پڑتا ہے آپ کو جلا وطنی برداشت کرنا پڑتی ہے، آپ کو جھوٹے کیسز برداشت کرنا پڑتے ہیں، آپ کو جھوٹی سزائیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، آپ کو جیلوں میں جانا پڑتا ہے، آپ کو اپنی تذلیل برداشت کرنا پڑتی ہے، آپ کو اپنی بے گناہ بیٹی کو جیل جاتا ہوا دیکھنا پڑتا ہے، میں عمران خان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ ان کی سیاسی پہچان کیا ہے، ان کا سیاسی تشخص کیا ہے، ان کا سیاسی تشخص، سیاسی پہچان اور ان کا سیاسی تعارف منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنا، منتخب حکومت اور منتخب وزیر اعظم کے آفس کے باہر  126دن دھرنا دینا اور کہنا کہ میں وزیر اعظم کو گلے سے گھسیٹ کر نکالوں گااور لوگوں کو یہ بتانا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے اور اس کے بعد نواز شریف کے مینڈیٹ کو چھیننا اور پھر عوام کے اختیار کے اوپر قابض ہو جانا، ووٹ کی حرمت کو پاؤں کے نیچے کچل کے آنا، عوام کے ووٹ کی پرچی کو پاؤں کے نیچے کچل کے آنا اور سازش کرنا آپ کی تو پہچان یہ ہے، آپ کا اصول سے، جمہوریت اور جمہوری جدوجہد سے، ایک آئینی وزیر اعظم کے اختیارات سے اس کی عزت سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور کوئی واسطہ نہیں ہے، نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہ کرنا اور شیر کی کھال پہن لینے سے کوئی شیر نہیں بن جاتا۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ،10سال کی جدوجہد جمہوریت کے خلاف سازش سے عبارت ہے، ہم اور عوام عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔ ایک سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میری جانب سے دائر درخواست میں کوئی ابہام نہیں اور اگر مجھے اپنا مؤقف ثابت کرنے کے لئے کوئی اور بھی درخواست دینا پڑی تو میں وہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوں گی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے