نوشہرہ (مانند نیوز ڈیسک) نوشہرہ انڈسٹریل اسٹیٹ اونر ایسوسی ایشن نے بجلی بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے صعنتی یونٹس بند کردئے،جب تک حکومت ہمارے مسائل حل نہیں کرتی اس وقت تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا،اس سلسلے میں نوشہرہ انڈسٹریل اسٹیٹ اونر ایسوسی ایشن کے صدر عرفان خان،سینئر نائب صدر ناصر خان،نائب صدر زاہد اقبال اور فوکل پرسن اعجاز باچا سمیت مائینز کے امان خان،گرینڈنگ کے صدر ملک عمران علی اور رعرفان انور نے نوشہرہ پریس کلب کے سامنے اپنے دیگر سینکڑوں ساتھیوں اور مزدوروں کے ہمراہ احتجاجی مظاہرے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجلی بلوں میں مختلف قسم کے ظالمانہ ٹیکسز لاگو کررکھے ہیں جس سے عام شہری اور بلخصوص ماربل انڈسٹری کو کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہیں،فیول پرائس ایڈجسمنٹ ٹیکس،کواٹرٹیرف ٹیکس،ایکسٹرا ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس جیسے ناموں پر لوٹ مار کی بازار گرم کر رکھی ہیں،محکمہ واپڈا کی ترسیل کمپنی پیسکو ریوینیو اتھارٹی بننے کی بجائے بجلی فروخت کرنے والی کمپنی بنے،انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خیبر پختون خوا بھر میں 4 ہزار اور ضلع نوشہرہ میں 200 کے قریب ماربل انڈسٹریز کو تالے لگ گئے،اور اسی انڈسٹریز سے وابسطہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہوکر کئی ہزار گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے،یہاں تک کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کئی بار سڑکوں پر آگئے،احتجاج کیا،اخبارات کے ذریعے حکومت وقت کو آگاہ کیا لیکن حکومت نے ہمارے مسائل اور مطالبات پرایسے آنکھیں اور کان بند کردیے ہیں جیسے حکومت اندھی اوربہری ہو،انہوں نے کہا کہ ماربل انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اسی انڈسٹری سے وابسطہ ٹرانسپورٹ کے مزدوروں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے تو پاکستان کو ریاست مدینہ سے تشبیہ دینے کا نعرہ لگا کر ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ خود بر سر اقتدار آکر نوکریاں دینا تو دور کی بات کاروباری حضرات،اور مزدوروں کے منہ کا نوالا چین رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایک جمہوری ملک میں اپنے جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے پر امن مظاہرین پر 27جنوری 2022کو مقدمات درج کئے گئے،جس کے ہم پر زور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واپڈا کی ترسیل کمپنی پیسکو نے بغیر کسی نوٹس کے جتنے بھی ماربل انڈسٹریز سے بجلی کنکشن منقطع کیے ہیں اس کو بحال کیے جائے،کیونکہ بغیر کسی نوٹس کے کسی بھی صعنتی یونٹس کا بجلی کنکشن منقطع کرنا اور فیول پرائس ایڈجسمنٹ کی وصولی غیر قانونی ہے کیونکہ کوئی بھی صعنتی یونٹس فیول الیکٹرک سپلائی استعمال نہیں کرتا،انہوں کہا کہ اگر 5فروری تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم جی ٹی روڈ اور موٹرویز کو بند کرکے اسلام آباد کے ڈی چوک میں حکومت کے اس ظالمانہ ٹیکسز کے خاف دما دم مست قلندر کرینگے،