ہری پور (مانند نیوز ڈیسک) یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کے اعزاز میں پہلے کانووکیشن کا انعقاد تقریب کے مہمان خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی تعلیم کامران بنگش تھے جبکہ انکے ہمراہ وفاقی وزیر اقتصادی امور عمرایوب خان بھی موجود تھے۔تقریب میں یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ سرکاری اور غیر سرکاری کالجز کے پی ایچ ڈی، ایم فل، ماسٹر اور بیچلر گریجویٹس کو ڈگریاں، توصیفی اسناد اور پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو گولڈ میڈلز بھی دیے گئے۔اس موقع پروائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر طاہر خان اور ضلعی انتظامیہ کے سربراہان نے بھی شرکت کی تقریب کے مہما ن خصو صی خیبر پختونخوا کے وزیر ہائر ایجوکیشن اور یونیورسٹی کے پرو چانسلر کامران خان بنگش نے ہری پور یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کے کامیاب انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ اور ان کے والدین کو خصوصی مبارکباد دیتا ہوں ان طلبہ سے ان کے والدین اور پوری قوم کی امیدیں وابستہ ہیں اپنے والدین اور قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے عملی زندگی میں کچھ کر کے دکھائیں آپ کی یہ سوچ ہونی چاہئے کہ اب آپ اس قوم اور ملک کو کیا دیں گے۔ ہری پور یونیورسٹی کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جا ئیں گے۔اس کے تمام مسائل کو فوری طور حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھا رہے ہیں آج ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لیے خوشی کا دن ہے۔ ان انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں یونیورسٹیوں کے لیے سب سے بڑے چیلنجز کوالٹی اور معاشی تنو اور ترقی ہے۔ پروفیسر گیلانی کی سر پرستی میں ہری پور یونیورسٹی نے اکیڈمک، معاشی اور انتظامی تمام اشاریوں میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔کامران بنگش نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے نوجوانوں کے حوالے سے ویژن کی بدولت مستقبل قریب میں پاکستان نہ صرف ایشیاء بلکہ دنیا میں ٹائیگر بن کر ابھرے گا وزیراعظم کے حالیہ چائینہ کے دورے میں نوجوان اپنے شاندار مستقبل کے حوالے سے جلد خوشخبری سنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہری پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گیلانی نے کہا کہ وفاقی وزیر عمر ایوب کی کاوشوں سے یونیورسٹی کو وفاقی حکومت سے ڈیڑھ ارب سے زیادہ ملنے والی گرانٹ کی بدولت ہری پور یونیورسٹی نے قلیل مدت قابل تقلید ترقی کی ہے جبکہ خصوصاً گزشتہ تین سالوں میں تقریباً تمام شعبوں اور اشاریوں میں مثالی ترقی کی ہے۔ جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تین سالوں میں سٹوڈنٹس کی تعداد 3200 سے بڑھ کر دوگنی تقریباً 6500 ہو گئی ہے، پی ایچ ڈی طلباء کی تعداد 19 سے بڑھ کر تین سوپچاس ہوگئی ہے، ڈیپارٹمنٹس 19 سے بڑھ کر 31 جبکہ فراہم کیے جانے والے تعلیمی پروگرامز 52 سے بڑھ کر90 ہوگئے ہیں۔ اسی طرح پروفیسرز کی تعداد 2 سے 10, ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تعداد ایک سے 30 ہوگئی ہے۔ جبکہ پاکستان بھر میں یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل اساتذہ کی تناسبی تعداد 35 فیصد جبکہ ہری پور یونیورسٹی میں یہ تناسب تقریباً 70 فیصد ہے، جبکہ کوالٹی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہری پور یونیورسٹی صوبہ کی ان چھ یونیورسٹیوں میں شامل ہے جسے صوبائی حکومت نے سال 2021 کا Quality Assurance Award دیا بلکہ اس سے ملحقہ تین کالجز کو بھی اس ایوارڈ سے نوازا گیا، اور اسی طرح ہری پور یونیورسٹی ملک کی واحد یونیورسٹی ہے جسے صرف ایک سال میں ایچ سی سی نے PhD کے دس اور ایم فل کے 9 نئے پروگرامز کے آغاز کی اجازت دی انہوں نے بتایا کہ جدید دور کے معاشی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی نے مارکیٹ میں ضروری پروگرامز کو شروع کیا اور ان میں یونیورسٹی کے آئی ٹی اور ایم ایل ٹی پروگرامز فلیگ شپ پروگرامز ہیں آخر میں انہوں نے صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں سے یونیورسٹی کے لیے مزید زمین کی فراہمی کی درخواست کی کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے کہا کہ وہ ہری پور یونیورسٹی میں اپنے آپ کو مہمان نہیں بلکہ میزبان سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ ان کا شہراور حلقہ انتخاب ہے اور وہ اپنے آپ کو اس یونیورسٹی کا خادم تصور کرتے ہیں انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنی اور وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی انہوں نے آئی ٹی اور ایم ایل ٹی کے حوالے سے بتایا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے اس حوالہ سے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں، Silicone City trend کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی قائم کی گئی جس کے تحت ڈسٹرکٹ ہری پور میں صوبائی حکومت کے تعاون سے سپیشل آئی ٹی زون اور پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ کو لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ ٹی آ?ی پی نے گوگل لا?یسنس کے لیے اپلا?ی کردیا ہے جس کے حصول کے بعد ہری پور آ?ی ٹی کا مرکز بن جا? گا۔