سوات (مانند نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام تحصیل کبل کا کبل پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس۔پریس کانفرنس سے محمد زادہ ثاقب امیدوار کسان کونسلر کانجو 1، قاری محمد یوسف جنرل کونسلر کانجو1، فرہاد علی امیدوارجنرل کونسلر کانجو 2، ضیاء اللہ حیران معاؤن سیکرٹری تحصیل کبل، عبیدالرحمن امیدوار کسان کونسلر کانجو2 کا خطاب۔انہوں نے واضح کیاکہ پریس کانفرنس انتخابات کے حوالے سے ہے جس میں اشفاق احمدایڈوکیٹ امیدوار برائے تحصیل چئیرمین کے کردار پر روشنی ڈالنی ہے۔اشفاق احمد صاحب کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے جن پرمدارس و علماء کے علاوہ عصری علوم کے مکاتب اساتذہ، وکلاء سب کابھی اتفاق ہے۔ان کے اوپر تمام مکاتب کا اتفاق ان کے مثبت کردار کی وجہ سے ہے۔ معاشرے میں عوام اور معاشرے کو ریلیف اور سہولت فراہمی کیلئے ان کا کردار سب پر واضح ہے۔ چونکہ ملاکنڈڈویژن ہر قسم ٹیکسوں سے مبرا ہے لیکن حکومت نے یہاں ٹیکس نفاذ کا اعلان کیا جس کے خلاف انہوں نے ہر فورم پر آواز اٹھاکر عوام کے دل جیت لئے۔ نصرت روڈ کی تعمیر انتہائی سستی و تاخیرکا شکار رہی جس سے گردوغبار، صحت، ہسپتال و ایمرجنسی دیر سے رسائی اور مختلف مسائل نے جنم لیا۔اشفاق احمدایڈوکیٹ نے اپنا بھرپور کردار ادا کرکے نصرت روڈ کی تعمیر کے سلسلے کو تیز کروایا جس سے اہلیان علاقہ کی تمام مسائل سے جان چھوٹ گئی۔ مہنگائی کے خلاف مہنگائی مکاؤ مارچ میں انہوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے۔عوام الناس میں آگہی اجاگر کی ہے اور مارچ میں کثیر تعداد میں لوگوں کی شمولیت ممکن بنائی ہے۔کانجو میں ٹریفک کی ناگفتہ بہہ صورت حال ہے۔انہوں نے کبل تختہ بند کے مابین رابطہ پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا جس پر حکومت نے نوٹس لیا اور اس کی تعمیر سے پورا علاقہ اس آفت سے آزاد ہوجائیگا۔معاشرہ مساکین اور نادار افراد سے بھراپڑاہے۔انہوں نے ہر وقت ان مستحق افراد کیلئے راشن تقسیم کیلئے آوازبھی اٹھائی ہے اوراپنے خرچے سے ان میں راشن کی تقسیم کئے ہیں جس میں بالخصوص سردیوں میں راشن تقسیم سے نادار افراد کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی ہے۔عصرحاضر میں نوجوان نسل شدید بے راہ روی کاشکار ہے۔ ہر طرف دجالی فتنوں بالخصوص انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کو اپنے شکنجوں میں جکڑا ہواہے۔ نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانے کیلئے مفید ذرائع اور بالخصوص کتب کی تقسیم کا انتخاب کیااور شیخ الہند لائبریری کا قیام عمل میں لایاجس سے نوجوانوں میں کتب کی تقسیم کے ذریعے دجالی خرافات سے اپنی تاریخ اور دین کی طرف مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر سوال و جواب کا ایک سلسلہ شروع کیاتھا جوکہ نوجوانوں اور عام لوگوں میں کتاب کی طرف رجحان بڑھانے کیلئے ایک مثبت اقدام تھا۔ دیر میں نوجوان ساتھی شفیع اللہ شاداب کی شہادت پر اس کی تعزیت میں ایک بڑی تقریب کا انعقادکیا جس میں اس کے والد اور خاندان کے افرد کو بھی شریک کروایا۔حکومت کی طرف سے سرکاری سکولوں کے بچوں کے اوپر فیصلہ صادر کیاگیاتھا کہ بچے فیس ادا کریں گے جس کے خلاف اشفاق احمد ایڈوکیٹ نے بھرپور آواز اٹھائی اور مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے ہر فورم پر اپنی ہر ممکن کوشش کی اور اس کے ساتھ ساتھ مفت صحت کی فراہمی کیلئے بھی ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے کھیلوں کے میدانوں کا رخ کیااور ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے ان کیلئے مختلف انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس سلسلے میں 29ٹیموں کو اپنے خرچے پر کٹ فراہم کئے، 14والی بال ٹیموں کو نیٹ اور بال فراہم کئے اورکرکٹ کی مختلف ٹیموں کو بیٹ فراہم کئے جس کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف مائل کرناہے۔چونکہ حکومت کی طرف سے مدارس کو عصری علوم کی کتب فراہم نہیں کئے جاتے لہٰذا 20تک کے مدارس کو عصری علوم کی کتب فراہم کیں۔ خیرالناس فاؤنڈیشن کالاکلے جوکہ ہر مسئلہ میں عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہتی ہے،کے ساتھ بھی اشفاق احمد ایڈوکیٹ ہر مسئلہ میں شانہ بہ شانہ کھڑے رہتے ہیں اور عوام کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کالاکلے میں پانی کی بندش پر خیرالناس فاؤنڈیشن کی کال پر پانی بندش کا مسئلہ فورا حل کیا۔ کرونا وبا کی خطرناک لہر میں مختلف ادارے بند ہوئے، لوگوں کے چولہے بجھ گئے،حکومت کی طرف سے مستحقین کو راشن فراہم نہ ہوسکے، بالخصوص پرائیویٹ سکول اساتذہ کو جس کیلئے اشفاق صاحب نے 170تک پرائیویٹ اساتذہ کو ریلیف فراہم کرکے ان کی تکلیف کی شنوائی کی۔ ا ن کے اس روشن کردار نے عوام کے ذہنوں میں ایک مقام پیدا کیا جس پرکانجو میں بہت زیادہ شمولیتیں ہوئیں۔ان کی عوام دوستی، عوام کیلئے خیرخواہی کے جذبے اور عاجزانہ مزاج کو دیکھتے ہوئے ان کو ایک لیڈر کے طور پر قبول کیا۔ووٹ ایک امانت ہے جس کے بارے میں باقاعدہ پوچھاجائے گا۔ اگر ایک شخص حکومت میں نہ ہوتے ہوئے ہر ایک کی خدمت میں پیش پیش رہتاہے تو حکومت میں رہ کر اور اس کے ہاتھ میں اختیار آجائے توپھر وہ کیسے ہر ایک ادارے اور شعبے میں اپنا بہترین کردار اداکریگا۔ سب سے بڑا مسئلہ شاہی آباد اور گانشال کے راستے ہیں۔خواتین اور مریض پائپوں میں سے گزار کر لے جانے پڑتے ہیں۔ سول ایوی ایشن کی طرف راستے کی بندش کے سلسلے میں ایک کال پر انہوں نے آکر انتظامیہ سے مذاکرات کے ذریعے راستہ بندش کا مسئلہ حل کیا۔مقررین نے آخر میں کہا کہ تحصیل کبل میں ہماری جو ٹیم مقرر کی گئی ہے وہ ان تمام مسائل کی جانچ رکھتی ہے جو تحصیل کبل کی عوام کو درپیش ہیں، ان کے حل پر دسترس رکھتی ہے اور ان مسائل کے حل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔