بونیر ( نمائندہ مانند) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سیراج الحق نے کہا ہے کہ اگر ائیندہ بجٹ سود فری بجٹ پیش نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی پاکستان نہ ختم ہونے والا احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ شروع کریں گے اور ہمارا یہ احتجاج عمران خان اور تحریک انصاف کے مارچ جیسا نہیں ہوگا کہ ہم ایک لاٹھی دکھانے سے واپس ہوجائیں گے بلکہ ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے اور ہر چوک اور چوراہیں پر اللہ اکبر کی صدائیں ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک روزہ دورہ بونیر کے موقع پر المرکز اسلامی سواڑئی بونیر میں جماعت اسلامی بونیر کے زیر اہتمام ایک اعظیم الشان ورکرز کنونشن اور بعد ازاں مرکزی بازار سواڑئی میں پٹرولیم مصنوعات اور مہنگائی کیخلاف اعظیم الشان احتجاجی مظاہرے سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر کنونشن اور مظاہرے میں بونیر کے کونے کونے سے کثیر تعددا میں کارکنان اور ذمہ داران جے آئی یوتھ،اسلامی جمیعت طلبہ کے نوجوانوں نے شرکت کی،اس موقع پر صوبائی مائب امیر عبدالواسع،ضلعی امیر محمد حلیم باچا،ضلعی جنرل سیکرٹری عالم خان،ضلعی نائب امراء محمد خنیف ایڈوکیٹ،انجینئر ناصر علی،عبدالغفار خان سابق اسپیکر بخت جہان خان اور دیگر مشران بھی موجودتھے،سیراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی ایک سیکے کے دو رخ ہے اور دونوں سے خیر کی اُمید بے جا ہیں،آج قوم 2018میں بننے والی حکومت کی خمیازہ بھگت رہی ہے۔مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے جبکہ عوام کا براحال ہے اب وقت آگیا ہے کہ عوام ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے جماعت اسلامی پاکستان کا ساتھ دیں،کیونکہ سب کہ سب ازمائے گئے اب صرف امید کی آخری کرن جماعت اسلامی ہے جو قوم کو آئی ایم ایف ورلڈ بنک سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں،حکمرانان اگر مہنگائی قابو نہیں کرسکتے ہیں تو اقتدار چھوڑ دیں اس موقع پر شرکاء احتجاج نے پی ٹی آئی اور پی ڈیم ایم کیخلاف نعرہ بازی بھی کی۔